ایران کی قیادت کے گرد معاشرہ متحد، حکومت کی تبدیلی کا امکان نہیں: روسی صدر پیوٹن

0

ماسکو – روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے باوجود ایرانی قوم اپنی قیادت کے گرد مضبوطی سے متحد ہے، اور تہران میں حکومت کی تبدیلی کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے جن کا تذکرہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکام کی جانب سے کیا گیا تھا۔

پیوٹن نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو عالمی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جس دوران انہوں نے ایران میں داخلی سیاسی ہم آہنگی اور موجودہ کشیدگی کے دوران قومی یکجہتی پر زور دیا۔

پیوٹن نے کہا”ایران میں، تمام داخلی سیاسی عمل کی پیچیدگیوں کے باوجود، ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک کی قیادت کے گرد معاشرتی استحکام قائم ہے۔”

یہ بیان اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اس دعوے کے تناظر میں دیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن ہے۔ پیوٹن نے اس خیال کو سراسر غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا اور ایرانی حکومت کی لچک اور عوامی حمایت پر زور دیا۔

روسی صدر نے ایران کی زیر زمین یورینیم افزودگی تنصیبات کے حوالے سے بین الاقوامی تشویش کو بھی رد کر دیا۔”یہ فیکٹریاں زیر زمین موجود ہیں، اور ان پر کوئی نقصان نہیں پہنچا۔”

یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں اسرائیل کے حالیہ حملوں میں ایران کے نتنز اور فردو جیسے حساس مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

پیوٹن نے زور دیا کہ مسئلے کا حل پرامن سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے،اور تمام فریقین کے سلامتی مفادات کو متوازن طور پر مدنظر رکھنا ہوگا۔انہوں نے یکطرفہ فوجی اقدامات کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیاں خطے میں مزید انتشار کا باعث بن سکتی ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.