کمبوڈیا میں سائبر کرائم کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: 1000 سے زائد افراد گرفتار

انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت، اور عالمی نیٹ ورکس کی نشاندہی، سیہانوک وِل اور نوم پِنہ آپریشن کا مرکز

کمبوڈیا میں حکام نے سائبر جرائم کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر میں 1000 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ آپریشن جنوب مشرقی ایشیا کی تاریخ کے سب سے بڑے سائبر کرائم کریک ڈاؤنز میں شمار کیا جا رہا ہے، جو سیہانوک وِل، نوم پنہ، باویٹ اور دیگر شہروں میں ایک ساتھ کیے گئے چھاپوں پر مشتمل تھا.

گرفتار ہونے والوں میں بڑی تعداد غیر ملکی شہریوں کی ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ مختلف کمپاؤنڈز میں بیٹھ کر جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز، رومانوی فراڈ، فشنگ اسکیمز، اور ڈیجیٹل بھتہ خوری جیسے سائبر جرائم میں ملوث تھے۔ پولیس کے مطابق ان چھاپوں میں بین الاقوامی ایجنسیوں کا تعاون بھی حاصل تھا۔

کمبوڈیا نیشنل پولیس کے ترجمان چھائے کم کھوئین نے کہاکہ "ہم نے نہ صرف سائبر فراڈ بلکہ ان سے جڑی ہوئی انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کے نیٹ ورکس کو بھی بے نقاب کیا ہے۔”

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان جرائم میں شکار بننے والے کچھ افراد خود بھی مظلوم تھے، جنہیں جھوٹی ملازمتوں کے وعدوں سے کمبوڈیا بلایا گیا اور پھر زبردستی اسکام مراکز میں کام پر مجبور کیا گیا۔ متاثرہ افراد نے بتایا کہ انہیں دن میں 12 گھنٹے تک کام کرنے پر مجبور کیا گیا اور نافرمانی پر جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ کریک ڈاؤن چین، ملائیشیا اور فلپائن جیسے ممالک کے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے، جن کے شہری ان اسکام نیٹ ورکس میں اکثر اسمگل کیے گئے افراد میں شامل پائے گئے۔

کمبوڈیا کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کلیدی مجرموں کی شناخت اور سرحد پار قانونی کارروائیوں کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

اس آپریشن نے سیہانوک وِل جیسے ساحلی شہر پر بھی توجہ مرکوز کی ہے، جو غیر قانونی آن لائن جوئے اور سائبر اسکیمز کا بدنام مرکز بن چکا ہے۔ یہ نیٹ ورکس عالمی جرائم پیشہ گروہوں سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور قانون نافذ کرنے والا نظام، وسیع ڈیجیٹل رسائی، اور کمزور قانونی نفاذ کی وجہ سے جنوب مشرقی ایشیا اب سائبر سے منسلک انسانی اسمگلنگ کا نیا ہاٹ اسپاٹ بنتا جا رہا ہے۔

کمبوڈیا نے اپنے سائبر قوانین کو سخت کرنے، اور ان اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے جنہوں نے ماضی میں ان جرائم پر آنکھیں بند رکھیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے