حادثے میں 260 افراد ہلاک، "کٹ آف” فیول سوئچز، میکینیکل خرابی کا کوئی ثبوت نہیں: ابتدائی رپورٹ
ایئر انڈیا کے ڈریم لائنر طیارے کے گزشتہ ماہ پیش آنے والے ہولناک حادثے کی تحقیقات اب کپتان کے فیصلوں اور اقدامات پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ حادثہ 12 جون کو پیش آیا تھا، جس میں جہاز میں سوار 260 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی — جو بھارت کی حالیہ تاریخ کا سب سے بدترین فضائی سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی رپورٹ کے مطابق، کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) سے پتا چلا ہے کہ ایندھن کے کنٹرول سوئچز پرواز کے محض چند سیکنڈ بعد دستی طور پر "کٹ آف” کیے گئے، جس سے دونوں انجن بند ہو گئے۔
وائس ریکارڈنگ میں فرسٹ آفیسر کی آواز ریکارڈ ہوئی "تم نے کیوں بند کیا؟” جبکہ مبینہ طور پر کپتان نے جواب دیا: "میں نے نہیں کیا۔”یہ جملے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فیول سوئچز کی حرکت غیر متوقع تھی — مگر یہ واضح نہیں کہ یہ حرکت غلطی، غلط فہمی یا تکنیکی معاملہ تھی۔
حادثے کے وقت طیارہ کپتان سومیت سبھروال اور فرسٹ آفیسر کلائیو کنڈر اڑا رہے تھے۔
- کپتان کے پاس 15,600 گھنٹے پرواز کا تجربہ تھا
- فرسٹ آفیسر کے پاس 3,400 گھنٹے فلائنگ کا ریکارڈ تھا
ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی ابتدائی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ فیول سوئچز کو محض ایک سیکنڈ کے وقفے سے "رن” سے "کٹ آف” میں تبدیل کیا گیا، مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ تبدیلی کیسے یا کیوں ہوئی۔
ایئر انڈیا کے CEO کیمبل ولسن نے عملے کو ایک اندرونی میمو میں یقین دہانی کرائی ہے کہ طیارے میں کوئی مکینیکل یا مینٹیننس کی خرابی نہیں پائی گئی اور تمام پرواز سے پہلے کے معیاری معائنے مکمل کیے گئے تھے۔
رپورٹ میں طیارہ ساز کمپنی بوئنگ یا انجن ساز کمپنی GE پر کوئی فوری حفاظتی خدشات ظاہر نہیں کیے گئے۔بوئنگ اور امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) دونوں نے فیول سوئچ لاکنگ میکانزم کے محفوظ ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اگرچہ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر انجن دوبارہ "رن” پوزیشن میں پائے گئے، مگر تب تک طیارہ بہت زیادہ بلندی اور رفتار کھو چکا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ریم ایئر ٹربائن (ایک ہنگامی پاور جنریٹر) خودکار طور پر فعال ہو چکی تھی، جو انجن فیل ہونے کی واضح علامت ہے۔
DGCA (ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن) اور دیگر متعلقہ ادارے فی الحال WSJ رپورٹ پر خاموش ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے۔
توقع ہے کہ حتمی رپورٹ میں فلائٹ ڈیٹا، پائلٹ کے طرز عمل، اور مینٹیننس ریکارڈز کے مکمل تجزیے کے بعد کوئی نتیجہ پیش کیا جائے گا۔
یہ المیہ اب بھارت سمیت دنیا بھر میں پائلٹ تربیت، کاک پٹ آٹومیشن، اور ہنگامی صورتحال میں فیصلہ سازی کے پروٹوکولز پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
