"امریکہ فرسٹ” پالیسی کو تقویت، ترقیاتی فنڈز اور میڈیا گرانٹس محدود
امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے غیر ملکی امداد اور پبلک براڈکاسٹنگ کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر بجٹ کٹوتیوں کی منظوری دے دی ہے، جسے ٹرمپ انتظامیہ کی مالیاتی پالیسی کے لیے ایک اہم فتح قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ قانون سازی جمعرات کی صبح منظور کی گئی، جس کے تحت اربوں ڈالر کی وفاقی اخراجات میں کمی کی اجازت دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کی دیرینہ پالیسی — "امریکہ فرسٹ” — کے تحت ایسے فنڈز کو غیر ضروری قرار دیا جاتا رہا ہے جو بیرون ملک خرچ کیے جاتے ہیں۔
اہم نکات:
غیر ملکی امداد میں کٹوتی
بل کے تحت USAID اور دیگر عالمی شراکت داروں کے زیر انتظام بین الاقوامی ترقیاتی اور انسانی ہمدردی کے پروگراموں کے فنڈز میں خاطر خواہ کمی کی جائے گی۔
پبلک براڈکاسٹنگ پر اثر
قانون سازی سے کارپوریشن فار پبلک براڈکاسٹنگ (CPB) اور PBS جیسی عوامی میڈیا تنظیمیں بھی متاثر ہوں گی، جن کی کئی گرانٹس یا تو ختم کر دی جائیں گی یا کم کر دی جائیں گی۔
کانگریس میں کم مزاحمت
اس بار سینیٹ اور ہاؤس دونوں ایوانوں میں یہ بل بہت کم مخالفت کے ساتھ منظور ہوا، جو کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کی مضبوط گرفت اور ٹرمپ کی مالیاتی پالیسیوں پر بڑھتی حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔
مالیاتی قدامت پسندوں نے ان اقدامات کو "ٹیکس دہندگان کے پیسے کی مؤثر ترجیح” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق قومی سلامتی، دفاع، اور معاشی ترقی کو بیرونی امداد یا سبسڈی یافتہ میڈیا پر ترجیح دی جانی چاہیے۔
تاہم، ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ ان کٹوتیوں سے امریکہ کی عالمی ساکھ اور سافٹ پاور کو نقصان پہنچ سکتا ہے مقامی پسماندہ کمیونیٹیز کو پبلک میڈیا تک رسائی محدود ہو سکتی ہے
یہ بجٹ کٹوتیاں اکتوبر 2025 سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں لاگو ہوں گی۔ تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ ان اقدامات سے عالمی ترقیاتی شراکت داریوں میں کمی, گھریلو پبلک میڈیا اداروں کی پروگرامنگ اور کوریج میں تبدیلیاں
دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔
یہ قانون سازی صدر ٹرمپ کی اس پالیسی کو مزید مضبوط بناتی ہے کہ امریکی وسائل کو اندرون ملک دفاع، سلامتی اور اقتصادی ترقی کے لیے مرکوز رکھا جائے۔ اس اقدام کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ کے ریپبلکن ایجنڈے کا اگلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
