سیلاب سے 12 لاکھ افراد متاثر، 22 اموات، بنیادی ڈھانچے کو نقصان، لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ

لاہور: پنجاب کے دریائے راوی، چناب اور ستلج میں بیک وقت تاریخی طوفانی سیلابی بہاؤ جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے 38 سال میں پہلی بار تینوں بڑے دریا اس شدت کے ساتھ بیک وقت سیلابی کیفیت کا شکار ہوئے ہیں۔4 دریاؤں کا پانی آج ایک ساتھ مل کر جنوبی پنجاب میں تباہی پھیلا سکتا ہے، قادرآباد ہیڈ ورکس کے مقام پر 10 لاکھ 54 ہزار 883 کیوسک پانی کا اخراج، 263 امدادی کیمپ قائم کردیے گئے ہیں۔

دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شاہدرہ کے مقام پر آج صبح ساڑھے چھ بجے پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 48 ہزار 440 کیوسک تک پہنچا، جو نہایت خطرناک سطح تصور کی جاتی ہے۔

سیلابی صورتحال سے پنجاب کے 1,432 موضع جات متاثر ہوئے ہیں، جن میں 12 لاکھ 36 ہزار 824 شہری زیرِ اثر آئے ہیں۔ دریائے چناب کے کنارے آباد 991 دیہات متاثر ہوئے جہاں 7 لاکھ 69 ہزار سے زائد افراد سیلاب سے براہِ راست متاثر ہوئے۔ دریائے راوی کے اطراف 80 مواضع اور ستّلج کے اطراف 361 دیہات سیلاب کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

سیلاب کے باعث 2 لاکھ 48 ہزار سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ایک لاکھ 48 ہزار سے زائد مال مویشی بھی ریسکیو کیے گئے ہیں، جبکہ 234 جانوروں کے علاج کے کیمپ فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔مختلف واقعات میں 22 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

پنجاب میں اس وقت 694 ریلیف کیمپس اور 265 میڈیکل کیمپس سرگرمِ عمل ہیں۔ متاثرہ افراد کو خوراک، صاف پانی، عارضی رہائش، اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پاک فوج، ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122، اور دیگر تمام ادارے فیلڈ میں متحرک ہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اس تاریخی سیلاب کے دوران گرینڈ ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کی براہ راست نگرانی کر رہی ہیں، اور مسلسل فیلڈ ٹیمز سے رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی علاقے میں تاخیر یا کوتاہی نہ ہو۔

پنجاب حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کسی بھی متاثرہ خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، اور بحالی کا عمل مکمل ہونے تک تمام ادارے فیلڈ میں موجود رہیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے