Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک، 2 جوان شہید

اکتوبر 25, 2026

سعودی شہریوں کے لیے ماہانہ 500 ریال الاؤنس، کم از کم اجرت میں اضافے کا اعلان

اکتوبر 25, 2026

جنگ بندی کے لیے تمام محاذوں پر لڑائی بند ہونا ضروری ہے، عباس عراقچی

اکتوبر 25, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
پیر, اکتوبر 26
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»پاکستان»پاکپتن میں ستلج کا کٹاؤ جاری، ایک گاؤں مکمل دریا برد، دوسرے کے 50 گھر غائب
پاکستان

پاکپتن میں ستلج کا کٹاؤ جاری، ایک گاؤں مکمل دریا برد، دوسرے کے 50 گھر غائب

EditorBy Editorستمبر 26, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

لاہور، پاکپتن، سکھر:  پاکپتن میں دریائے ستلج سے زمینی کٹاؤ کا عمل جاری ہے جس سے ایک اور گاؤں مکمل دریا برد ہو گیا، جلالپور پیروالا کی درجنوں بستیوں میں پانی اب بھی موجود ہے، شہریوں کو گھر واپسی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دریائے چناب اور ستلج کے سیلاب سے متاثرہ جلال پور پیر والا شہر سمیت درجنوں بستیوں میں پانی اب بھی موجود ہیں، نوراجہ بھٹہ کے مقام پر شگاف بند کرنے کا کام جاری ہے۔

موٹر وے پولیس کے مطابق سیلاب سے متاثرہ ایم 5 موٹر وے 13ویں روز بھی ملتان سے جھانگڑا انٹرچینج تک بند ہے، بحالی کے لیے پانی اترنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔

پاک پتن میں دریائے ستلج سے زمینی کٹاؤ کا عمل جاری ہے، گاوں سوڈا مکمل دریا بُرد ہوگیا ، چک باقر کے 50 گھر بھی کٹاؤ کی زد میں آگئے۔

دوسری جانب دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتِ حال برقرار ہے۔

ٹھٹہ سجاول پل پر پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا جس کے نتیجے میں کچےکے 10 سے زائد دیہات زیرِ آب آگئے، پانی کی سطح میں اضافے کے باعث کئی ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی زیرِ آب آگئیں جس کے بعد مکینوں نے حفاظتی بند پر پناہ لے لی۔

مٹیاری میں کچے کے علاقے بھی متاثر ہو گئے، مکین اپنی مدد آپ کے تحت کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سعید آباد کے کچے کے علاقے زیرِ آب آنے سے فصلیں بھی متاثر ہوگئیں۔

دریائے سندھ میں مانجھند کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ جاری ہے، تحصیل مانجھند کی 6 یونین کونسلز کے 28 دیہات سیلاب سے شدید متاثرہو گئے۔

سیہون میں لکی شاہ صدر سے پیٹارو تک 70 کلومیٹر تک ریلوے ٹریک کے دونوں اطراف پانی موجود ہے، ریلا سیہون سے جامشورو تک انڈس ہائی وے روڈ سے بھی ٹکرا گیا، آمری، لکی شاہ صدر، سن، مانجھند، کھانوٹ کے کچے کے متعدد دیہات کا شہروں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

پنجاب میں 200 سے زیادہ سڑکیں متاثر، سیکڑوں کلومیٹر پر علاقے تاحال زیرآب

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کے مطابق سیلاب کے باعث موٹر وے ایم فائیو 13 مقامات پر متاثر ہوئی جبکہ مزید چار سے پانچ مقامات پر نقصان کا خدشہ ہے، یہی وجہ ہے کہ موٹر وے ایم فائیو 15ویں روز بھی ٹریفک کے لیے بند ہے، سیلاب نے قومی اور ضلعی سطح کی 200 سے زائد سڑکوں کو بھی متاثر کیا۔

ترجمان موٹر وے پولیس عمران شاہ نے بتایا کہ ملتان سے سکھر سفر کے لیے متبادل راستے استعمال کیے جا سکتے ہیں، شاہ شمس انٹرچینج سے قومی شاہراہ پر جا کر اوچ شریف انٹرچینج کے راستے دوبارہ موٹر وے ایم فائیو پر شامل ہوا جا سکتا ہے، جبکہ سکھر سے ملتان آنے والے مسافر بھی یہی متبادل راستہ اختیار کریں۔

پنجاب حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیالکوٹ، گجرات، حافظ آباد اور نارووال میں ریکارڈ بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ ہوئی جبکہ دریائے ستلج، بیاس اور راوی میں 40 سالہ ریکارڈ سیلاب نے صوبے کے 27 اضلاع کو متاثر کیا، حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے بعد بحالی کے لیے سروے کا آغاز کر دیا ہے، مگر سڑکوں اور پلوں کی بحالی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

عرفان کاٹھیا کے مطابق جلالپور پیروالہ سے جھانگڑال تک 22 کلومیٹر طویل حصہ شدید متاثر ہوا، جہاں موٹر وے کے نیچے موجود 73 گزرگاہوں میں سے 15 تباہ ہو گئی ہیں، ان کی بحالی میں مشکل یہ ہے کہ دونوں اطراف پانی کھڑا ہے، جس کے اخراج کے بعد ہی تعمیراتی کام ممکن ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج کا پانی دریائے چناب میں شامل ہونے میں مزید ایک ہفتہ لگے گا، اس کے بعد مکمل بحالی ممکن ہو سکے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جلالپور لودھراں روڈ سمیت کئی مقامات پر ٹریفک بند ہے، بعض علاقوں میں پانی کی سطح کم کرنے کے لیے ڈالے گئے شگافوں کے باعث بھی سڑکیں کھل نہیں سکی ہیں، گڑھ مہاراجہ شورکوٹ روڈ اور پل، سیت پور اور علی پور کے پل بھی متاثر ہوئے، جہاں عارضی لوہے کے پل لگا کر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

عرفان کاٹھیا نے کہا کہ سب سے زیادہ نقصان جھنگ اور جنوبی پنجاب کے اضلاع میں ہوا، سیالکوٹ اور گجرات میں اربن فلڈنگ سے متاثرہ سڑکیں بڑی حد تک بحال ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں دریائے ستلج اور چناب کے کناروں پر سیکڑوں کلومیٹر علاقے اب بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، وہاں عارضی راستوں کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے، اگرچہ دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے، مگر صورتحال کو معمول پر آنے میں مزید چند دن لگیں گے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک، 2 جوان شہید

    اکتوبر 25, 2026

    گورنر خیبرپختونخوا کی پرویزخٹک سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    اکتوبر 25, 2026

    افغانستان سے ہونے والی دراندازی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا،طارق فضل چوہدری

    اکتوبر 25, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026

    رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں پاکستان شاہینز نے بھارت کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    نومبر 16, 2025
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.