کوالالمپور — ملائیشیا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے تین روزہ سربراہی اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہوگیا، جس میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تاریخی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
افتتاحی اجلاس میں ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے معزز مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ امن ہی خطے میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کو امن کے اس اہم معاہدے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
رپورٹس کے مطابق، امریکا اور ملائیشیا نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کے درمیان مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اس اقدام کو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سمٹ کے دوران آسیان رکن ممالک کے سربراہان نے مشرقی تیمور (East Timor) کی تنظیم میں باضابطہ شمولیت کے اعلامیے پر بھی دستخط کیے، جس سے آسیان کی رکنیت 11 ممالک تک پہنچ گئی ہے۔
اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل، یورپی یونین، افریقن یونین، انڈونیشیا اور برازیل کے صدور کے علاوہ کینیڈا کے وزیراعظم بھی شریک ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، آسیان سمٹ 2025 خطے کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی تعاون، اور موسمیاتی چیلنجز جیسے اہم امور پر بھی تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔
