یروشلم — اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اب غزہ کی پٹی اسرائیل کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں رہی۔ ان کے مطابق اسرائیل نے اپنے فوجی اہداف میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور غزہ کو غیر عسکری زون میں تبدیل کرنے کی جانب پیش رفت جاری ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کو ایک امن پسند و غیر عسکری علاقے میں بدلنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تل ابیب واشنگٹن کے ساتھ مل کر ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہا ہے جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق غزہ کی صورتحال کو تبدیل کرے گا۔
نیتن یاہو کے بقول، “ہم مرحلہ وار غیر مسلح کرنے پر کام کر رہے ہیں، اور منصوبے کے دیگر حصوں پر بھی بیک وقت پیش رفت جاری ہے۔”
دوسری جانب قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک حماس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے اسلحے سے دست بردار ہو کر غزہ کی حکومت چھوڑنے پر آمادہ ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ قطر کے لیے غزہ کی حالیہ صورتحال مایوس کن ہے، جبکہ اسرائیلی فوجیوں پر حملے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع میں جنگ بندی معاہدہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، اور خطے میں امن و استحکام کے امکانات اب بھی کمزور دکھائی دیتے ہیں۔
