غزہ – اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ میں یرغمالیوں کی باقیات پر مشتمل دو تابوت بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے حوالے کر دیئے ہیں۔
یہ پیش رفت جمعرات کے روز وسطی غزہ کی پٹی کے علاقے دیرالبلاح میں ہوئی، جہاں ریڈ کراس کی گاڑیاں لاشیں لے کر کسوفیم سرحدی کراسنگ کی طرف روانہ ہوئیں۔
فوجی حکام کے مطابق، جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک حماس کی جانب سے 15 مغویوں کی باقیات واپس کی جا چکی ہیں، جب کہ 13 افراد کی باقیات تاحال بازیابی کے منتظر ہیں۔
تازہ ترین حوالگی اس بات کا اشارہ ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود جنگ بندی کے نازک معاہدے پر عملدرآمد جاری ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، بدھ کی صبح اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد جنوبی غزہ میں جمعرات کے روز بھی متعدد مقامات پر حملے کیے گئے، جن میں کم از کم 40 افراد زخمی ہوئے۔
ناصر ہسپتال، خان یونس کے نرسنگ سربراہ محمد سار نے بتایا کہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خان یونس میں "دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے” پر حملہ کیا جو مبینہ طور پر فوجیوں کے لیے خطرہ تھے۔ جنوبی غزہ کا بڑا حصہ اب اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔
10 اکتوبر کو شروع ہونے والی یہ جنگ بندی، اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری طویل ترین اور تباہ کن لڑائی کو ختم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
