نیویارک — اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جمعہ کو ایک اہم قرارداد پر ووٹنگ کرنے جا رہی ہے جس میں یہ تسلیم کیا جائے گا کہ مراکش کے خودمختاری منصوبے کے تحت مغربی صحارا کے لیے محدود خودحکومتی نظام اس 50 سالہ تنازع کے حل کا “انتہائی قابل عمل راستہ” ہو سکتا ہے۔
مراکش اس شمالی افریقی علاقے کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ الجزائر کے حمایت یافتہ پولساریو فرنٹ وہاں ایک آزاد ریاست کے قیام کا خواہاں ہے۔
یہ قرارداد امریکا کی جانب سے تیار کی گئی ہے اور اس کی منظوری کے لیے کم از کم نو ووٹ درکار ہیں، بشرطیکہ روس، چین، امریکا، برطانیہ یا فرانس میں سے کوئی بھی ملک ویٹو نہ کرے۔
مسودہ متن میں کہا گیا ہے کہ “فریقین کے درمیان مذاکرات کی بنیاد کے طور پر مراکش کا خودمختاری منصوبہ ایک حقیقت پسندانہ حل فراہم کرتا ہے۔”
پولساریو فرنٹ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسی کسی قرارداد کی بنیاد پر مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا جو آزادی کے ریفرنڈم کے آپشن کو خارج کرے۔
الجزائر، جو اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے، نے بھی کہا ہے کہ وہ ایسی قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دے گا جو مراکش کے منصوبے کی حمایت کرتی ہو۔
قرارداد میں اقوام متحدہ کے مغربی صحارا امن مشن (MINURSO) کے مینڈیٹ کو ایک سال کے لیے بڑھانے کی سفارش بھی شامل ہے۔
مزید برآں، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے چھ ماہ کے اندر امن مذاکرات کی پیشرفت پر “اسٹریٹجک جائزہ رپورٹ” پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی میں مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ “واحد قابل عمل حل” ہے۔
اسی طرح فرانس اور برطانیہ نے بھی رباط کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے مغربی صحارا میں سرمایہ کاری کی اجازت دی۔
اس کے بعد سابق نوآبادیاتی طاقت اسپین نے بھی مغربی صحارا پر مراکش کے حق کو تسلیم کیا، جو یورپی ممالک کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مراکش نے 2007 میں اقوام متحدہ کے سامنے ایک منصوبہ پیش کیا تھا جس کے مطابق مغربی صحارا کو ایک منتخب مقامی اسمبلی، انتظامی اور عدالتی خودمختاری دی جائے گی، جبکہ دفاع، خارجہ پالیسی اور مذہبی امور رباط کے کنٹرول میں رہیں گے۔
