واشنگٹن — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران امریکہ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو صرف 7,500 تک محدود کر دیا جائے گا — اور ان میں سے اکثریت سفید فام جنوبی افریقی باشندوں پر مشتمل ہوگی۔
یہ اقدام امریکہ کی سابقہ پالیسی سے ایک ڈرامائی تبدیلی ہے، جب ملک نے دنیا بھر میں جنگ، ظلم و ستم اور انسانی بحرانوں سے فرار ہونے والے لاکھوں افراد کو پناہ دی تھی۔
انتظامیہ نے یہ اعلان جمعرات کے روز فیڈرل رجسٹری میں ایک نوٹس کے ذریعے کیا، جس میں پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی۔
یہ فیصلہ جو بائیڈن انتظامیہ کے دور میں مقرر کردہ 125,000 کی حد سے نمایاں طور پر کم ہے۔
فیڈرل نوٹس کے مطابق، 2026 کے مالی سال کے دوران داخل ہونے والے 7,500 پناہ گزینوں کا انتخاب "انسانی تحفظات یا قومی مفاد” کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
بین الاقوامی پناہ گزین امدادی منصوبے نے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا "ٹرمپ انتظامیہ ایک بار پھر انسانی ہمدردی کے پروگرام کو سیاسی مفادات کے تابع کر رہی ہے۔ ایسے ہزاروں پناہ گزینوں کو مسترد کرنا جن کی برسوں سے جانچ ہو چکی ہے، انسانی وقار کے منافی ہے۔”
گلوبل ریفیوج کے سی ای او کرش او مارا وگناراجہ نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکہ کے اخلاقی معیار کو کمزور کرتا ہے "چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک امریکہ جنگ اور ظلم سے بھاگنے والے خاندانوں کے لیے امید کی علامت رہا۔ اب یہ پروگرام اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔”
اسی طرح امریکن امیگریشن کونسل کے سینئر فیلو ایرون ریخلن-میل نِک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا "1980 سے اب تک امریکہ 20 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کو قبول کر چکا ہے۔ اب یہ پروگرام صرف سفید فام امیگریشن کے راستے کے طور پر استعمال ہوگا۔ یہ امریکی انسانی اقدار کے لیے ایک دھچکا ہے۔”
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں جنوبی افریقہ کی مالی امداد میں کٹوتی کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ نے الزام لگایا تھا کہ سیاہ فاموں کی قیادت والی حکومت سفید فام اقلیت کے ساتھ نسلی امتیاز برت رہی ہے — ایک الزام جسے جنوبی افریقہ نے "جھوٹا اور سیاسی پروپیگنڈا” قرار دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، جنوبی افریقہ میں 72 فیصد زرعی زمین اب بھی سفید فام اقلیت کے زیرِ ملکیت ہے، جو ملک کی کل آبادی کا صرف 7.3 فیصد ہیں، جب کہ سیاہ فام اکثریت (81%) کے پاس صرف 4 فیصد زمین ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ گزینوں کی تعداد کم کی ہو۔
2020 میں بھی اس نے مالی سال 2021 کے لیے 15,000 پناہ گزینوں کی حد مقرر کی تھی، جبکہ ایک سال قبل اسے 18,000 کر دیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق، نئی پالیسی نہ صرف امریکہ کے عالمی انسانی امیج کو متاثر کرے گی بلکہ اس کے بین الاقوامی تعلقات پر بھی طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے۔
