غزّہ میں کارروائیاں امریکا کو رپورٹ کی جاتی ہیں، اجازت نہیں لی جاتی: نیتن یاہو

اسرائیل ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل، نیتن یاہو

تل ابیب — اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزّہ میں ہونے والی عسکری کارروائیوں کے حوالے سے امریکی حکومت کو مطلع کیا جاتا ہے مگر اُن سے کوئی اجازت حاصل نہیں کی جاتی۔ کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ غزّہ کے بعض حصّوں میں اب بھی حماس کے ٹھکانے موجود ہیں جنہیں مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر رفح اور خان یونس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں حماس کے اہم مراکز ہیں اور انہیں جلد از جلد تباہ کیا جائے گا۔ نیتن یاہو نے زور دیا کہ اگر ہماری افواج پر حملے کی کوئی کوشش کی گئی تو ہم نہ صرف حملہ آوروں کو بلکہ اُن کی تنظیموں کو بھی نشانہ بنائیں گے، اور اپنی فوج کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کارروائی کریں گے۔ "ہم غزّہ میں اپنی فوج کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیں گے اور حماس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے،” ان کے الفاظ نقل کیے گئے۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ وہ اعلیٰ سطح پر سکیورٹی ذمہ داری خود لیتے ہیں اور اسے کسی صورت ترک نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو کارروائیوں کی رپورٹ کی جاتی ہے تا کہ مسلسل مطلع رکھا جا سکے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اجازت مانگی جاتی ہے۔

ادھر حماس نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ امریکا اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کروانے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہا، اور عالمی برادری کو صورتحال کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے کا کہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے