نیویارک — امریکی میڈیا Axios کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے ایک ایسی قرارداد کا مسودہ تیار کیا ہے جو غزہ میں ایک بین الاقوامی فورس کے قیام کی منظوری دے گا۔ اس مجوزہ فورس کو غزہ پر حکومت کرنے اور سیکیورٹی کے مکمل اختیارات دو سال کے لیے دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
مسودے کے مطابق، یہ فورس — جسے "انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (ISF)” کہا گیا ہے — غزہ کی اسرائیل اور مصر کے ساتھ سرحدوں کی نگرانی، شہری و انسانی ہمدردی کے علاقوں کی حفاظت، اور نئے فلسطینی پولیس اہلکاروں کی تربیت کی ذمہ دار ہوگی۔
دستاویز میں واضح طور پر ذکر ہے کہ ISF کا مینڈیٹ حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کو بھی شامل کرے گا۔
مسودے کے مطابق “ISF غزہ کی پٹی کو غیر فوجی بنانے کے عمل کو یقینی بنائے گی، دہشت گردی اور جارحانہ انفراسٹرکچر کو تباہ اور روکے گی، اور کسی بھی گروہ کو دوبارہ مسلح ہونے سے روکنے کے لیے مستقل اقدامات کرے گی۔”
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فورس "غزہ معاہدے کی حمایت میں ضروری اضافی کام” انجام دے گی اور اسے مصر اور اسرائیل کے ساتھ قریبی مشاورت سے قائم کیا جائے گا۔
مسودے کے ایک اہم حصے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ "بورڈ آف پیس” کو خصوصی حیثیت دینے کی سفارش بھی شامل ہے۔ اس بورڈ کو ایک "بین الاقوامی قانونی حیثیت کے حامل عبوری حکومتی ڈھانچے” کے طور پر تسلیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو غزہ کی تعمیرِ نو، فریم ورک سازی، اور مالی امداد کی ہم آہنگی کرے گا۔
یہ اختیارات اس وقت تک نافذ رہیں گے جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی اپنا اصلاحاتی پروگرام تسلی بخش طور پر مکمل نہیں کر لیتی۔
ماہرین کے مطابق، اگر یہ قرارداد منظور ہو جاتی ہے تو یہ غزہ کے سیاسی و سلامتی ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی کی علامت ہوگی، جس کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو براہِ راست انتظامی کردار حاصل ہو جائے گا — ایک ایسا اقدام جو خطے میں نئے سفارتی اور سیاسی تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔