غزہ کی "زمین پر ترک جوتے نہیں‘‘ اسرائیل کا اعادہ

0

یروشلم  — اسرائیل نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ غزہ میں ترک فوجیوں کی تعیناتی کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرے گا۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان شوش بیدروسیان نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’زمین پر ترکی کے جوتے نہیں ہوں گے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو اس مجوزہ کثیر القومی فورس کا حصہ نہیں بنایا جائے گا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو سالہ جنگ بندی منصوبے کے تحت غزہ کی سکیورٹی سنبھالنے کے لیے تشکیل دی جا رہی ہے۔

امریکی منصوبے کے مطابق، غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی سٹیبلائزیشن فورس قائم کی جائے گی جو اسرائیلی دفاعی فورس (IDF) سے مرحلہ وار سکیورٹی کا کنٹرول حاصل کرے گی۔ تاہم اس فورس کا قیام تاحال عمل میں نہیں آیا، اور کئی ممالک اس کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مینڈیٹ لینے پر زور دے رہے ہیں۔

ترکی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد اور سکیورٹی کی بحالی میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی سفیر برائے ترکی ٹام بیرک نے اس ماہ مناما سکیورٹی کانفرنس میں کہا تھا کہ ترکی ’’اس عمل میں شرکت کرے گا۔‘‘ تاہم اسرائیل نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ماہ بیان دیا تھا کہ ’’انقرہ کو ایک تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے، مگر واشنگٹن اسرائیل پر کسی بھی غیر ملکی فوج کو اپنی سرزمین پر قبول کرنے کے لیے مجبور نہیں کرے گا۔‘‘

ماہرین کے مطابق، غزہ میں بین الاقوامی فورس کے قیام کے سلسلے میں ترک کردار پر اسرائیل اور امریکا کے درمیان اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
ترکی کی شمولیت کو ایک طرف اسلامی دنیا میں توازن قائم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تو دوسری جانب اسرائیل اسے سکیورٹی خطرہ قرار دے رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.