تھائی لینڈ نے بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد کمبوڈیا کے ساتھ امن معاہدہ معطل کر دیا

0
بینکاک – تھائی لینڈ نے سرحد کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں اپنے دو فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد کمبوڈیا کے ساتھ امریکی ثالثی میں طے پانے والے امن معاہدے پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے۔ اس واقعے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مہینوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق تھائی فوج کے سپریم کمانڈر جنرل یوکریس بونٹانوندا نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ "تھائی فوج تمام معاہدوں کو اس وقت تک روک رہی ہے جب تک کمبوڈیا واضح خلوص کا مظاہرہ نہیں کرتا کہ وہ دشمنی نہیں کرے گا۔”

تھائی فوج کے مطابق، صوبہ سیساکیٹ میں صبح سویرے ایک PMN-2 بارودی سرنگ پھٹنے سے چار فوجی زخمی ہوئے، جن میں سے ایک نے اپنا دایاں پاؤں کھو دیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ کے قریب مزید تین بارودی سرنگیں بھی ملی ہیں۔ تھائی حکام نے الزام لگایا ہے کہ یہ بارودی سرنگیں کمبوڈیا کی جانب سے حال ہی میں خاردار تاروں کو ہٹا کر نئی بچھائی گئی ہیں۔

دوسری جانب کمبوڈیا کی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر "شدید تشویش” کا اظہار کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کمبوڈیا نے ہمیشہ سرحدی استحکام اور امن کے لیے کوششیں کی ہیں، اور وہ کسی بھی نئی بارودی سرنگ بچھانے میں ملوث نہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی میں دونوں ممالک کے درمیان پانچ روزہ سرحدی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی اور امن معاہدہ کرانے میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ اکتوبر میں ملائیشیا میں فریقین نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت بھاری ہتھیاروں کے انخلا اور قیدیوں کے تبادلے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔

تاہم تازہ واقعے کے بعد تھائی وزیر اعظم انوتین چنویراکول نے کہا کہ "جب تک صورتحال واضح نہیں ہو جاتی، تمام معاہدے روک دیے جائیں گے۔”

یاد رہے کہ جولائی میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 48 افراد ہلاک اور 3 لاکھ سے زائد افراد عارضی طور پر بے گھر ہو گئے تھے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر کشیدگی برقرار رہی تو یہ تنازع جنوب مشرقی ایشیا کے خطے میں ایک نیا بحران جنم دے سکتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.