ترکیہ میں فٹبال میچوں پر غیر قانونی سٹے بازی اسکینڈل — ایوپسپور کلب کے چیئرمین سمیت 8 افراد گرفتار، 1024 کھلاڑی معطل

0

انقرہ — ترکیہ میں فٹبال میچوں پر غیر قانونی سٹے بازی کے ایک بڑے اسکینڈل نے ملک کے کھیلوں کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
ترک حکام نے کارروائی کرتے ہوئے ایوپسپور فٹبال کلب کے چیئرمین مراد اوزکایا سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ایک ہزار چوبیس (1,024) کھلاڑیوں کو تحقیقات مکمل ہونے تک عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

ترک خبر رساں ایجنسی شنہوا اور سرکاری ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق، یہ کارروائی استنبول سائبر کرائمز ڈویژن اور پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے مشترکہ طور پر کی۔
پولیس نے انقرہ، انطالیہ، بولُو، دیاربکر، استنبول، ازمیر اور طرابزون سمیت 13 صوبوں میں ایک ساتھ چھاپے مارے۔
ابتدائی طور پر 21 افراد کو حراست میں لیا گیا جن کی سرگرمیوں کی خفیہ نگرانی اور ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کیے گئے تھے۔

ترک فٹبال فیڈریشن (TFF) نے پیر کو اپنے بیان میں کہا کہ بیٹنگ اسکینڈل سے متعلق تمام 1,024 کھلاڑیوں کو پروفیشنل فٹبال ڈسپلنری کونسل (PFDK) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں کھیلنے سے روک دیا گیا ہے تاکہ شفاف تفتیش ممکن ہو سکے۔

یہ سخت اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل ہی فیڈریشن نے 149 ریفریوں اور اسسٹنٹ ریفریوں کو اس الزام میں معطل کر دیا تھا کہ وہ اپنے زیر نگرانی میچوں پر سٹے بازی میں ملوث تھے۔
یہ طرزِ عمل فٹبال کے شفافیت اور دیانت داری کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے۔

ترکیہ میں فٹبال کھیل عوامی جوش و خروش کا مرکز ہے، تاہم غیر قانونی بیٹنگ نیٹ ورکس کی سرگرمیوں نے کھیل کی ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ثابت ہوئی تو متعدد کلبوں کے لائسنس معطل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی فٹبال تنظیمیں (فیفا، یو ای ایف اے) بھی اس معاملے پر مداخلت کر سکتی ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.