امریکا نے یورپ میں چار بائیں بازو کے گروپوں کو دہشت گرد قرار دے دیا — ’تشدد انٹیفا‘ کا لیبل لگا دیا

0

واشنگٹن – امریکی حکومت نے جرمنی، اٹلی اور یونان میں سرگرم چار بائیں بازو کے گروپوں کو "خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد” (SDGT) قرار دے دیا ہے۔ امریکی حکام نے ان گروپوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ "تشدد پر مبنی اینٹیفا تحریک” سے وابستہ ہیں اور ان کے نظریات انارکسٹ، مارکسسٹ اور امریکا مخالف رجحانات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بیان میں کہا کہ جرمنی میں کام کرنے والے گروہ Antifa Ost کو یونان اور اٹلی کے تین دیگر گروپوں کے ساتھ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت سیاسی تشدد میں ملوث اینٹیفا نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر مقابلہ کیا جا رہا ہے۔

روبیو نے یہ بھی تصدیق کی کہ امریکا 20 نومبر سے ان گروپوں کو ’’غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں‘‘ (FTOs) کے طور پر شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ دنیا بھر میں دیگر گروپوں کے خلاف بھی کارروائیاں متوقع ہیں۔

روبیو کے مطابق "اینٹیفا سے وابستہ یہ گروہ انقلابی انارکسٹ یا مارکسسٹ نظریات رکھتے ہیں، جن میں امریکا مخالف، سرمایہ داری مخالف اور عیسائیت مخالف عناصر شامل ہیں۔ یہ گروہ اپنے نظریات کے تحت ملک اور بیرون ملک پرتشدد کارروائیوں کو ہوا دیتے ہیں اور انہیں جواز فراہم کرتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دستیاب تمام ہتھیار استعمال کرے گا، اور ان گروپوں کی مالی معاونت اور وسائل تک رسائی بند کرنے کے لیے مزید عالمی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

امریکا کی جانب سے یہ قدم صدر ٹرمپ کی اس حکمت عملی کا تازہ ترین حصہ ہے جس کے تحت بائیں بازو کے پرتشدد نیٹ ورکس کو عالمی سطح پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.