ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ اور تصادم کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی قسم کی دھمکی، دباؤ یا جارحیت کے سامنے جھکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی خودمختاری، قومی وقار اور آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی انقلاب کے بانی Ruhollah Khomeini کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کو موجودہ غیر یقینی صورتحال سے نکل کر استحکام اور ترقی کی جانب بڑھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مخالف قوتیں جارحانہ طرزِ عمل اختیار کرتی ہیں تو ایران پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
صدر پزشکیان نے قومی اتحاد اور داخلی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کی کوشش ہے کہ ایرانی معاشرے میں تقسیم پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں، لیکن ایرانی عوام کی یکجہتی نے ان منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے کے عرب ممالک کو ایران کے خلاف متحد کرنے کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔
ایرانی صدر نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طاقت، بمباری اور فوجی دباؤ کے ذریعے کسی قوم کو سرنڈر کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر برسوں کی فوجی کارروائیوں کے باوجود غزہ کو جھکایا نہیں جا سکا تو ایران جیسے مضبوط اور خودمختار ملک کو بھی دباؤ کے ذریعے اپنے مؤقف سے ہٹانے کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں۔
مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران امن، استحکام اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی ملک کی خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے حق میں نہیں، تاہم کسی بھی دھمکی یا دباؤ کے نتیجے میں اپنے بنیادی اصولوں سے دستبردار نہیں ہوگا۔
