ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت اب صرف خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
ترک پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ شام اور لبنان میں اسرائیلی حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں اور ان کے اثرات براہِ راست ترکیہ کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کی پالیسیوں اور فوجی اقدامات کو نہ روکا گیا تو اس کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی برادری کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
صدر اردوان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی اقدامات خطے میں عدم استحکام کو فروغ دے رہے ہیں اور بین الاقوامی برادری کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کو روکنا صرف علاقائی ممالک ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت اور انسانی ہمدردی کے اصولوں پر یقین رکھنے والوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ تاریخ کے تلخ تجربات کو دوبارہ دہرائے جانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور عالمی طاقتوں کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کی راہ ہموار کر سکیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ حالات میں بین الاقوامی اداروں اور عالمی رہنماؤں کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ روکا جا سکے اور خطے کو ایک وسیع تر بحران سے بچایا جا سکے۔
