ٹرمپ کی دھمکیوں پر نائیجیریا کا ردعمل: ’’ہمیں تعاون چاہیے، دھمکیاں نہیں‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نائیجیریا میں عیسائیوں کی نسل کشی کے الزام اور ممکنہ کارروائی کی دھمکیوں پر نائیجیریا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو دھمکیوں کے بجائے تعاون پر توجہ دینی چاہیے۔
نائیجیرین وزیراطلاعات محمد ادریس ملاگی نے اپنے بیان میں کہا کہ نائیجیریا کو پُرتشدد حملوں کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ مضبوط سیکیورٹی اتحاد کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق امریکی الزام کہ نائیجیریا میں عیسائیوں کی نسل کشی ہو رہی ہے ’’غلط فہمی“ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں ہونے والے حملے مذہبی نوعیت کے نہیں بلکہ شدت پسند مسلمان اور عیسائی دونوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھے بغیر نائیجیریا پر یکطرفہ الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ نائیجیریا میں عیسائیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی۔
نائیجیرین حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست کسی مذہب کے خلاف کسی قسم کے قتل عام کی اجازت نہیں دیتی اور ملک مذہبی آزادی کا مکمل احترام کرتا ہے، تاہم نائیجیریا کو جاری شدت پسندی اور بدامنی کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ نائیجیریا میں شدت پسندی کی لہر 2009 سے جاری ہے۔ 25 کروڑ آبادی والے ملک میں 250 سے زائد نسلی گروہ آباد ہیں جبکہ آبادی میں 53 فیصد مسلمان اور 45 فیصد عیسائی ہیں۔ حکومت کے مطابق موجودہ حالات میں سیکیورٹی بحران اب فوڈ ایمرجنسی میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔