کرغزستان میں انتخابات سے قبل حزبِ اختلاف و صحافیوں کے خلاف کارروائیاں، متعدد گرفتار و طلب

0

بشکیک – کرغیز قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 30 نومبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، چھاپوں اور تفتیش کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں اس تحقیقات کا حصہ ہیں جس میں بعض عناصر پر "بڑے پیمانے پر بدامنی” کے مطالبات کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اگرچہ حکومتی اداروں نے ان اقدامات کو براہِ راست آئندہ انتخابات سے جوڑنے سے گریز کیا ہے، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متوقع طور پر یہ انتخابات موجودہ صدر صدیر جاپاروف کی طاقت کو مزید مضبوط کریں گے۔ صدر جاپاروف قوم پرست اور عوامی مقبولیت رکھنے والی شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ملک میں اختلافِ رائے پر بڑھتی ہوئی قدغنوں پر انہیں تنقید کا سامنا ہے۔

کارروائیوں کا نشانہ بننے والوں میں سابق صدر المازبیک اتمبایف کے قریبی سیاسی ساتھی شامل ہیں۔ اتمبایف، جو 2011 سے 2017 تک کرغزستان کے صدر رہے، اس وقت اسپین میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ اور بیٹے کو بھی پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے، جبکہ کئی سابق قانون ساز بھی تحقیقات کی زد میں ہیں۔

حزبِ اختلاف نے ان اقدامات کو سیاسی محرکات پر مبنی جبر قرار دیا ہے، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں مجرمانہ تحقیقات کا حصہ ہیں اور قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں۔

اکتوبر کے آخر میں کرغیز عدالت نے تین بڑے آزاد میڈیا اداروں کو "شدت پسند تنظیمیں” قرار دے کر ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے صحافیوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے اور یہ اقدام ملک میں آزادی اظہارِ رائے پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی علامت ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.