اقوامِ متحدہ: سیکرٹری جنرل کے انتخاب کا عمل شروع، خواتین امیدواروں پر زور دیا گیا
اقوام متحدہ – اقوامِ متحدہ کے آئندہ سیکرٹری جنرل کے انتخاب کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے، جس کے تحت رکن ممالک کو یکم جنوری 2027 سے منصب سنبھالنے والے امیدواروں کی نامزدگی کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ دعوت سلامتی کونسل کے موجودہ صدر اور سیرا لیون کے سفیر مائیکل عمران کانو اور جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیربوک کی جانب سے جاری مشترکہ خط کے ذریعے دی گئی ہے۔
جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیربوک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ انتخاب اقوامِ متحدہ کے وقار اور عالمی خدمت کے عزم کا مضبوط پیغام ہوگا۔ انتخابی عمل کئی ماہ تک جاری رہے گا اور سلامتی کونسل میں متعدد مراحل کی رائے دہی کے بعد 15 رکنی کونسل کسی ایک امیدوار کے نام کی منظوری دے گی، جسے پھر حتمی توثیق کے لیے جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
مشترکہ خط میں کہا گیا کہ سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے اعلیٰ کارکردگی، قابلیت، دیانت داری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے وابستگی لازمی ہے۔ اس بار متعدد رکن ممالک نے کسی خاتون کے انتخاب کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ قیادت نے افسوس ظاہر کیا کہ آج تک کوئی خاتون اس عہدے پر فائز نہیں ہوئی، اور رکن ممالک سے خواتین امیدواروں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
اب تک امیدواروں میں سابق چلی کی صدر مشیل بیچلیٹ، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ ارجنٹینا کے رافیل گروسی، اور کاستاریکا کی ربیکا گرینسپن شامل ہیں، جو فی الحال اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یواین سی ٹی اے ڈی) کی سربراہ ہیں۔
امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ریاست یا ریاستوں کے گروہ کی جانب سے نامزد ہوں اور اپنا ویژن اسٹیٹمنٹ اور فنڈنگ کے ذرائع فراہم کریں۔ روایتی جغرافیائی ترتیب کے مطابق اس بار لاطینی امریکا کی باری ہے، تاہم اس پر پابندی نہیں ہے۔ 2016 کے انتخاب میں پہلی بار شفاف طریقہ کار کے تحت امیدواروں کے عوامی انٹرویوز بھی ممکن ہیں۔
سلامتی کونسل جولائی کے آخر تک باضابطہ انتخابی مرحلہ شروع کرے گی، جبکہ پانچ مستقل رکن ممالک—امریکہ، چین، روس، برطانیہ اور فرانس—اپنے ویٹو کے ذریعے انتخابی عمل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انتونیو گوتریش جنوری 2017 سے اقوامِ متحدہ کے نویں سیکرٹری جنرل ہیں۔