دی ہیگ: بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے صدر نے کہا ہے کہ عدالتی اہلکاروں پر امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیاں ان کی ذاتی زندگیوں پر واضح اثر ڈال رہی ہیں، تاہم عدالت بیرونی دباؤ کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مبینہ اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کے ردعمل میں رواں سال استغاثہ اور ججوں سمیت آئی سی سی کے نو سینئر اہلکاروں پر ہدفی پابندیاں عائد کی تھیں۔ ذرائع کے مطابق واشنگٹن پوری عدالت کے خلاف مزید وسیع پابندیوں پر بھی غور کر رہا ہے۔
آئی سی سی کی سالانہ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جج ٹوموکو اکانے نے کہا کہ عدالت قانونی معاملات میں کسی قسم کا بیرونی دباؤ قبول نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں نے متاثرہ اہلکاروں کی خاندانی زندگی، بینکاری امور اور مالی لین دین کو بری طرح متاثر کیا ہے، حتیٰ کہ یورپی ممالک میں بھی جہاں آئی سی سی کے رکن بینکس کام کرتے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ان پابندیوں کے تحت اہلکاروں کے امریکی اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور انہیں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کر دیا گیا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر ان کے مالی امور مزید متاثر ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ آئی سی سی نے حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور حماس کے متعدد ارکان کے خلاف غزہ جنگ سے متعلق مبینہ جرائم پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے، جنہیں تمام فریقین نے مسترد کیا ہے۔
امریکہ اس سے قبل افغانستان میں مبینہ جرائم کی تحقیقات کے سلسلے میں بھی آئی سی سی اہلکاروں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے، جن میں امریکی فوجیوں کی کارروائیوں کا جائزہ بھی شامل تھا۔
آئی سی سی 2002 میں قائم کی گئی تھی اور اسے نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم پر کارروائی کا اختیار حاصل ہے، بشرطیکہ یہ جرائم کسی رکن ملک کے شہریوں کی جانب سے کیے گئے ہوں یا کسی رکن ملک کی سرزمین پر وقوع پذیر ہوئے ہوں۔