ابوجا — نائیجیریا میں ایک ماہ قبل کیتھولک سکول سے اغوا کیے گئے 100 سے زائد بچوں کی بحفاظت بازیابی ممکن بنا لی گئی ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس معاملے کی باضابطہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
21 نومبر کو مسلح افراد نے سینٹ میری کیتھولک بورڈنگ سکول، پاپیری پر حملہ کرتے ہوئے 303 طلبہ اور 12 عملے کے ارکان کو یرغمال بنا لیا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ نائیجیریا کی حالیہ تاریخ کے بدترین اجتماعی اغواؤں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
حملے کے دوران فائرنگ اور افراتفری کے نتیجے میں تقریباً 50 بچے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے، جب کہ باقی مغویوں کے بارے میں کئی ہفتوں تک کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔ مقامی نشریاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 100 بچوں کو آزاد کرا لیا گیا ہے، تاہم ان کی رہائی کے طریقۂ کار اور مقام سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
کرسچین تنظیم کے ترجمان ڈینیئل اٹوری نے بچوں کی رہائی کی غیر سرکاری رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں ابھی تک حکومت کی جانب سے باضابطہ اطلاع نہیں ملی، لیکن امید ہے کہ خبر درست ہو۔ ہم باقی بچوں کی جلد بازیابی کے منتظر ہیں۔”
ریاستی حکام اور مذہبی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی باضابطہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ مغوی بچوں کی مکمل رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
نائیجیریا میں اسکولوں اور تعلیمی اداروں پر حملے اور اغوا گزشتہ چند برسوں کے دوران بڑھتے ہوئے سیکورٹی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں — اور یہ واقعہ اس بحران کا ایک اور سنگین باب سمجھا جا رہا ہے۔
