واشنگٹن / صنعا — امریکا نے یمن میں حوثی تحریک کے ہاتھوں امریکی سفارت خانے کے موجودہ اور سابق مقامی عملے کی حراست کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’’غیر قانونی‘‘ اور ’’شرمناک‘‘ اقدام قرار دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے ایک بیان میں کہا "امریکہ یمن میں امریکی مشن کے موجودہ اور سابق مقامی عملے کی حوثیوں کی جاری غیر قانونی حراست کی مذمت کرتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "حوثیوں کی جانب سے ان عملے کی گرفتاریاں، اور ان کے خلاف جو شرمناک کارروائیاں کی گئی ہیں، اس بات کا مزید ثبوت ہیں کہ حوثی اقتدار برقرار رکھنے کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف دہشت گردانہ حربوں کا استعمال کرتے ہیں۔”
حوثیوں کی کارروائیاں عالمی قوانین کی خلاف ورزی، امریکا کا مؤقف
امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ:
-
سفارتی عملے یا ان کے سابق ملازمین کی گرفتاری
-
اور ان کے خلاف مبینہ بدسلوکی
بین الاقوامی سفارتی قوانین، خاص طور پر ویانا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
واشنگٹن نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ:
-
تمام زیرِ حراست عملے کو فوری اور بلا شرط رہا کریں
-
اور ان کے ساتھ گزشتہ ماہ سے جاری سخت برتاؤ کو فوری ختم کریں۔
پس منظر: حوثیوں کی جانب سے متعدد ملازمین گرفتار
یمن میں جاری تنازعے کے دوران حوثیوں نے متعدد بار امریکی سفارت خانے کے مقامی ملازمین کو حراست میں لیا ہے۔
امریکا بارہا اس اقدام کو ’’غیر قانونی‘‘ اور ’’سیاسی دباؤ کا حربہ‘‘ قرار دے چکا ہے۔
