اظہر محمود کا ٹیسٹ ٹیم کے ساتھ دور اختتام پذیر، صرف ایک سیریز مکمل کر سکے
کراچی — پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ اظہر محمود کا قومی ٹیم کے ساتھ سفر اختتام پذیر ہو گیا، اور وہ صرف ایک ٹیسٹ سیریز کے دوران ہی ذمہ داری نبھا سکے۔ ذرائع کے مطابق اظہر محمود کا دور مختصر رہنے کی وجوہات میں ٹیم کے لیے عبوری طور پر تعیناتی اور معاہدے کی مدت محدود ہونا شامل ہے۔
اظہر محمود، جو برطانوی شہریت کے حامل سابق آل راؤنڈر ہیں، پاکستان کے مہنگے ترین کوچز میں شمار کیے جاتے تھے، اور ان کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 75 لاکھ روپے تھی۔ انہیں پہلے ڈائرکٹر یا نائب کوچ کے طور پر بورڈ کے ساتھ طویل معاہدہ حاصل تھا، لیکن انہیں ہیڈ کوچ بنانے کے وعدے کے باوجود یہ عہدہ صرف عبوری طور پر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، اس دوران انہیں انڈر19 ٹیم کے ساتھ منسلک ہونے کی پیشکش قبول نہیں ہوئی۔
انہوں نے پہلی بار اکتوبر میں جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ٹیم کی کوچنگ کی۔ پاکستان نے اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ 93 رنز سے جیتا، جبکہ دوسرا ٹیسٹ 8 وکٹ سے ہار گیا۔ اس کے بعد بورڈ نے ان کے معاہدے میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے اظہر محمود کا دور صرف ایک سیریز تک محدود رہ گیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر بورڈ انہیں قبل از وقت فارغ کرتا تو چھ ماہ کی تنخواہ دینے کی ذمہ داری بنتی، جو کئی کروڑ روپے بنتی۔ اس لیے عبوری طور پر انہیں ٹیسٹ کوچ مقرر کیا گیا، اور اب وہ دوبارہ یو اے ای میں آئی ایل ٹی ٹوئنٹی لیگ میں ڈیزرٹ وائپرز کے فاسٹ بولنگ کوچ کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔
پاکستان ٹیم کے آئندہ مقابلوں میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تحت 9 میچز شامل ہیں: مارچ، اپریل میں بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ، جولائی اور اگست میں ویسٹ انڈیز کے دورے کے دو میچز، اگست اور ستمبر میں انگلینڈ کے تین ٹیسٹ، اور نومبر میں سری لنکا کے دو میچز پاکستان میں کھیلیں گے۔
ابھی نئے ہیڈ کوچ کے تعین کا فیصلہ نہیں ہوا، اور یہ واضح نہیں کہ آئندہ کوچ ملکی ہوگا یا غیرملکی۔ بورڈ کی ترجیحات میں یہ معاملہ بعد میں زیر غور آئے گا، خاص طور پر چونکہ ٹیم کا اگلا ٹیسٹ تین ماہ بعد کھیلنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، سابق ہیڈ کوچ مصباح الحق کے لیے بورڈ نے اب بھی آپشن رکھا ہوا ہے، اور مینٹور کی پوزیشن ختم ہونے کے باوجود انہیں مکمل طور پر فارغ نہیں کیا گیا۔