امریکا کی یورپی یونین کو سخت وارننگ، ٹیک ریگولیشنز پر جوابی کارروائی اور پابندیوں کی دھمکی

US issues stern warning to EU, threatens retaliation and sanctions over tech regulations

واشنگٹن – امریکا نے یورپی یونین کی جانب سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکی کمپنیوں اور سروس فراہم کنندگان کے خلاف متنازعہ اور امتیازی ریگولیشنز پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ہے۔

شنہوا کے مطابق امریکی دفترِ تجارتی نمائندہ (یو ایس ٹی آر) نے واضح کیا ہے کہ اگر یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک امریکی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سروس فراہم کنندگان کی مسابقت کو محدود کرنے کے لیے امتیازی قوانین، ٹیکسز اور جرمانوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو امریکا کے پاس اپنے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

یو ایس ٹی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ جوابی اقدامات میں غیر ملکی ڈیجیٹل اور ٹیک سروسز پر اضافی فیسیں عائد کرنا، تجارتی پابندیاں لگانا یا دیگر تادیبی اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام نے یہ انتباہ بھی کیا کہ اگر دوسرے ممالک بھی یورپی یونین کی طرز کی ریگولیٹری حکمتِ عملی اپناتے ہیں تو امریکا ان کے خلاف بھی اسی نوعیت کے اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔

امریکی دفترِ تجارتی نمائندہ نے الزام عائد کیا کہ یورپی یونین اور بعض رکن ممالک نے امریکی سروس فراہم کنندگان کے خلاف امتیازی اور پریشان کن مقدمات، بھاری ٹیکسز، جرمانے اور سخت انتظامی ہدایات نافذ کر رکھی ہیں، جو آزاد تجارت اور منصفانہ مسابقت کے اصولوں کے منافی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا گزشتہ کئی برسوں سے ان معاملات پر یورپی یونین کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کرتا آ رہا ہے، تاہم اس کے باوجود نہ تو امریکی خدشات کو سنجیدگی سے تسلیم کیا گیا اور نہ ہی کوئی بامعنی حل پیش کیا گیا۔

یو ایس ٹی آر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ یورپی سروس فراہم کنندگان دہائیوں سے امریکی مارکیٹ میں آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں اور امریکی صارفین اور معیشت سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بیان میں متعدد یورپی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا حوالہ دیا گیا جو امریکا میں وسیع کاروباری نیٹ ورک رکھتی ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں یورپی کمیشن نے امریکی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں گوگل اور میٹا کے خلاف دو نئی اینٹی ٹرسٹ تحقیقات شروع کی ہیں، جبکہ ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کی مبینہ خلاف ورزی پر 120 ملین یورو کا جرمانہ بھی عائد کیا جا چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور یورپی یونین کے درمیان یہ بڑھتا ہوا تناؤ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی تجارت کے شعبوں میں ایک نئی تجارتی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے