یورپی پارلیمنٹ نے2027 کے اختتام تک روسی گیس پر پابندی کی منظوری دے دی

یورپی پارلیمنٹ نے2027 کے اختتام تک روسی گیس پر پابندی کی منظوری دے دی

برسلز: یورپی پارلیمنٹ نے روس کے خلاف توانائی کے شعبے میں ایک اہم اور سخت فیصلہ کرتے ہوئے 2027ء کے اختتام تک روس سے گیس کی درآمدات پر مکمل پابندی لگانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر دباؤ بڑھانے اور یورپ کی توانائی پالیسی کو نئی سمت دینے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق ووٹنگ کے دوران پابندی کے حق میں 500 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ 120 ارکان نے اس کی مخالفت کی، اس طرح واضح اکثریت نے روسی گیس پر انحصار ختم کرنے کے منصوبے کی حمایت کی۔ ووٹنگ کے موقع پر 32 ارکان پارلیمنٹ غیر حاضر رہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے منظور کردہ مسودے کے مطابق رکن ممالک کو مرحلہ وار روسی گیس کے متبادل ذرائع اختیار کرنے کی ہدایت دی جائے گی تاکہ 2027 کے بعد روسی گیس پر مکمل انحصار ختم کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں مائع قدرتی گیس (LNG)، قابلِ تجدید توانائی، اور دیگر شراکت دار ممالک سے گیس کی درآمدات بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔

تاہم اس فیصلے پر عملدرآمد سے قبل یورپی یونین کی کونسل کی باضابطہ منظوری درکار ہو گی، جس کے بعد اسے قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ بعض یورپی ممالک نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ روسی گیس پر پابندی سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور صنعتی شعبے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم حامی ممالک کا مؤقف ہے کہ طویل المدتی توانائی سلامتی اس فیصلے سے مضبوط ہوگی۔

یورپی قیادت کے مطابق یہ اقدام نہ صرف روسی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہے بلکہ اس کا مقصد یورپ کو توانائی کے میدان میں خودمختار بنانا اور جغرافیائی سیاسی خطرات سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ پابندی مکمل طور پر نافذ ہو جاتی ہے تو یہ یورپ اور روس کے درمیان توانائی تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہوگی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے