واشنگٹن — امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تعطیلات سے قبل وائٹ ہاؤس سے قوم کے نام خطاب میں اپنے عہدے کے پہلے سال کو ’’کامیابی کی کہانی‘‘ قرار دیا، حالانکہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث امریکی عوام میں تشویش پائی جاتی ہے اور ریپبلکن پارٹی کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ خطاب کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
1۔ ہر مسئلے کا ذمہ دار بائیڈن کو قرار دیا
صدر ٹرمپ نے تقریر کے آغاز ہی میں واضح کر دیا کہ موجودہ مسائل ان کی حکومت کی نہیں بلکہ سابق صدر جو بائیڈن کی وراثت ہیں۔
انہوں نے تقریباً 20 منٹ کی تقریر میں سات مرتبہ بائیڈن کا نام لیتے ہوئے مہنگائی، جرائم، صحت کی دیکھ بھال اور امیگریشن پالیسی سمیت تقریباً ہر بڑے مسئلے کا ذمہ دار سابق حکومت کو ٹھہرایا۔
ٹرمپ نے کہا ’’گیارہ ماہ پہلے مجھے ایک گڑبڑ وراثت میں ملی تھی، اور میں اسے ٹھیک کر رہا ہوں۔‘‘
انہوں نے عوامی سطح پر مہنگائی اور بلند قیمتوں سے متعلق خدشات کو وقتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا ایک ایسے معاشی عروج کی طرف بڑھ رہا ہے ’’جو دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا‘‘۔
2۔ اوول آفس کے بجائے ریلی جیسا ماحول
صدر ٹرمپ نے اوول آفس کے بجائے وائٹ ہاؤس کے سفارتی استقبالیہ کمرے سے خطاب کیا، جہاں وہ پوڈیم کے پیچھے کھڑے ہو کر دو امریکی پرچموں اور سبز سجاوٹ کے درمیان نظر آئے۔
یہ انداز ان کے انتخابی جلسوں سے مشابہ تھا، جس میں تیز رفتاری اور جارحانہ لب و لہجہ نمایاں رہا۔
تاہم، انہوں نے مہنگی اشیائے خورونوش، رہائش اور تعطیلات کے تحائف سے پریشان امریکیوں کے لیے کسی خاص ہمدردی کا اظہار نہیں کیا۔ خطاب کے اختتام پر صرف مختصر ’’میری کرسمس‘‘ اور ’’ہیپی نیو ایئر‘‘ کہا گیا۔
3۔ کوئی بڑی نئی پالیسی سامنے نہ آ سکی
اگرچہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے عندیہ دیا تھا کہ صدر نئی پالیسیوں کا اعلان کر سکتے ہیں، لیکن تقریر میں واضح اور جامع پالیسی اقدامات کا فقدان رہا۔
ٹرمپ نے صرف چند نکات کا ذکر کیا، جن میں:
-
آئندہ برس جارحانہ ہاؤسنگ پالیسیوں پر عمل
-
جلد نئے چیئرمین فیڈرل ریزرو کی تقرری
-
امریکی فوجیوں کو 1,776 ڈالر کے چیک دینے کا منصوبہ
اس کے علاوہ خطاب میں وہی موضوعات دہرائے گئے جو عموماً ان کے سیاسی جلسوں میں سننے کو ملتے ہیں، جن میں امیگریشن، خواتین کے کھیلوں میں مردوں کی شمولیت پر تنقید، اور یہ دعویٰ کہ ایک سال قبل امریکا ’’مردہ‘‘ تھا۔
4۔ خارجہ پالیسی تقریباً نظرانداز
حیران کن طور پر خطاب میں خارجہ پالیسی کو نمایاں جگہ نہیں دی گئی، حالانکہ ٹرمپ کی دوسری مدت میں یہ ایک اہم موضوع رہا ہے۔
خطاب سے قبل قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ صدر وینزویلا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تصادم، آئل ٹینکروں کی ناکہ بندی اور صدر نکولس مادورو کے خلاف ممکنہ اقدامات پر بات کریں گے، مگر اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ نے صرف مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اپنی کوششوں کا سرسری ذکر کیا اور زیادہ تر توجہ داخلی معیشت پر مرکوز رکھی۔
ذرائع کے مطابق، ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ عالمی تنازعات کے بجائے عوامی روزمرہ مسائل پر توجہ دی جائے — اور اس خطاب میں کم از کم 18 منٹ تک وہ اسی حکمتِ عملی پر عمل کرتے دکھائی دیے۔
