کینبرا — آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے نفرت، تقسیم اور بنیاد پرستی کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہا پسندی اور نفرت پھیلانے میں ملوث افراد کے ویزے منسوخ کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس لعنت کے خاتمے کے لیے مزید مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرے گی۔
کینبرا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ معاشرے کو نفرت اور تشدد کی طرف دھکیلنے والی سوچ کے خلاف مزید ٹھوس اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ واضح ہے کہ ہمیں نفرت اور انتہا پسندی کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ردِعمل دینا ہوگا۔‘‘
یہ بیان اتوار کے روز سڈنی کے ساحلی علاقے میں پیش آنے والے ایک ہولناک حملے کے تناظر میں سامنے آیا، جہاں یہودیوں کے ایک تہوار کی تقریب پر دو مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ پولیس کی فوری جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا، جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق اس حملے نے آسٹریلیا بھر میں سکیورٹی خدشات کو جنم دیا ہے اور حکومت نے نفرت انگیز تشدد کے سدِباب کے لیے امیگریشن قوانین سمیت مختلف قانونی پہلوؤں کا ازسرِنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب، گزشتہ روز سڈنی حملے میں ملوث بھارتی شہری ساجد اکرم اور اس کے بیٹے کے پاسپورٹس منظرِ عام پر آنے کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق بھارتی نژاد دہشت گرد ساجد اکرم کا پاسپورٹ بھارتی سفارتخانے کی جانب سے 24 فروری 2022 کو دس سال کے لیے جاری کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق بھارتی سفارتخانے کو ابتدا ہی سے حملہ آور کی بھارتی شہریت کا علم تھا، تاہم اس حقیقت کو چھپایا گیا، جس سے بھارتی میڈیا کو پاکستان کے خلاف الزامات لگانے کا موقع ملا۔ اس پیش رفت کے بعد واقعے کے بین الاقوامی پہلوؤں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
آسٹریلوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ نفرت اور بنیاد پرستی سے جڑے کسی بھی فرد یا نیٹ ورک کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی، تاکہ معاشرے میں امن، رواداری اور باہمی احترام کو یقینی بنایا جا سکے۔
