تہران – ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انقلابِ ایران کے بانی مرحوم امام خمینی عوام اور امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کے پیامبر تھے، اور مسلم قوموں کو آج پہلے سے بڑھ کر متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ دشمن امت مسلمہ کے درمیان تفرقہ نہ پھیلا سکیں۔
تہران میں امام خمینی عالمی ایوارڈ کے پہلے ایڈیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیزشکیان نے کہا کہ واشنگٹن مذاکرات جاری رکھنے کے لیے توہین آمیز شرائط پیش کر رہا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ماضی میں بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کیے، تاہم امریکا نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا۔
صدر پیزشکیان نے واضح کیا کہ ایران امن کا خواہاں ہے اور کسی کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا۔ انہوں نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایران کا ایٹم بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، اور اس حوالے سے متعدد بار عالمی برادری کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم امام خمینی ہمیشہ امت مسلمہ کے درمیان اتحاد کے خواہاں رہے اور ان کا پیغام قوموں کو باہم جوڑنے پر مبنی تھا۔ صدر پیزشکیان کے مطابق مسلم ممالک کو نہ صرف اتحاد کی بات کرنی چاہیے بلکہ عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مشترکہ اہداف کے لیے متحد ہو سکتے ہیں، جیسا کہ امام خمینی کا وژن تھا۔
ایرانی صدر نے زور دیا کہ اگر مسلم دنیا میں حقیقی یکجہتی قائم ہو جائے تو کوئی بھی طاقت امت مسلمہ کے درمیان اختلافات کو ہوا نہیں دے سکے گی، اور یہی امام خمینی کی فکر اور پیغام کا اصل نکتہ تھا۔
