وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 8 جنوری کو نیشنل کیپیٹل پلاننگ کمیشن کے اجلاس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ایسٹ ونگ بال روم کی تعمیر سے متعلق تفصیلات پر مشتمل ایک معلوماتی بریفنگ پیش کرے گا۔ یہ منصوبہ جس کی لاگت ٹرمپ کے مطابق تقریباً 400 ملین ڈالر ہو گی، وائٹ ہاؤس کی موجودہ عمارت سے منسلک ایک نیا بڑا بال روم تعمیر کرنے سے متعلق ہے۔
یہ منصوبہ تحفظ پسند تنظیموں اور ڈیموکریٹک قانون سازوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے، جنہوں نے اسے عدالت میں چیلنج کیا ہے اور اسے طاقت کے غلط استعمال سے تعبیر کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اس کی مالی معاونت کن عطیہ دہندگان کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ نیشنل کیپیٹل پلاننگ کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ وائٹ ہاؤس اس اجلاس میں ایسٹ ونگ کی تعمیر نو کے منصوبوں پر باضابطہ معلومات فراہم کرے گا۔
کمیشن، جس کی قیادت ٹرمپ کے سابق ذاتی وکیل ول شرف کر رہے ہیں، نے اب تک سابق ایسٹ ونگ کے انہدام، تعمیراتی تیاریوں یا تاریخی عمارت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لینے سے انکار کیا ہے، حالانکہ ناقدین اسے کئی دہائیوں میں تاریخی املاک میں سب سے بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پرزرویشن نے تعمیر روکنے کے لیے مقدمہ دائر کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ مجوزہ 90 ہزار مربع فٹ پر مشتمل بال روم وائٹ ہاؤس کے باقی حصوں کے مقابلے میں غیر متناسب حد تک بڑا ہوگا۔ اس ماہ کے اوائل میں جج نے عارضی پابندی لگانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ منصوبے کے حتمی سائز اور دیگر تفصیلات ابھی طے نہیں ہوئیں، تاہم اگلے ماہ ایک اور سماعت مقرر ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق سابق ایسٹ ونگ کو اکتوبر میں خاموشی سے منہدم کر دیا گیا تھا۔ کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ آئندہ موسم بہار میں ہونے والے باضابطہ جائزے کے دوران عوام کو منصوبے پر تبصرے اور گواہی دینے کا موقع فراہم کیا جائے گا، جس میں نظر کی لکیریں، عوامی مقامات اور مناظر جیسے نکات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
