سعودی عرب کی ہیریٹیج اتھارٹی نے خطہ قصیم کے تاریخی مقام ضریہ میں عباسی دور سے تعلق رکھنے والے سونے کے زیورات کا ایک اہم خزانہ دریافت کیا ہے، جس میں مجموعی طور پر 43 سونے کے ٹکڑے شامل ہیں۔
العربیہ اردو کے مطابق یہ خطہ وسطی اور شمالی سعودی عرب کے درمیان واقع ہے اور 13 گورنریوں پر مشتمل ہے۔ یہ دریافت ہیریٹیج اتھارٹی کے جاری آثارِ قدیمہ سروے اور کھدائی کے منصوبے کے چوتھے سیزن کا حصہ ہے، جس کا مقصد اس علاقے کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔
ماہرین کے مطابق دریافت ہونے والے زیورات ایک مکمل آرائشی سیٹ کا حصہ معلوم ہوتے ہیں، جن پر ہندسی اور نباتاتی نقش و نگار نمایاں ہیں۔ ان میں مختلف سائز کے سونے کے فریم شامل ہیں جن کے اندر پھولوں اور پتوں کے دلکش ڈیزائن بنائے گئے ہیں جبکہ متعدد ٹکڑوں میں قیمتی پتھر بھی جڑے ہوئے ہیں۔
زیورات کے مجموعے میں ایک بڑا گول ٹکڑا بھی شامل ہے جس کے مرکز میں رنگین پتھروں کی باقاعدہ ترتیب موجود ہے۔ اس کے علاوہ باریک سونے کے پتے اور موتیوں کا استعمال بھی کیا گیا ہے، جو اس دور کی اعلیٰ دستکاری اور فنِ زرگری کی عکاسی کرتا ہے۔
کھدائی کے دوران عباسی دور کے دیگر آثار بھی دریافت ہوئے ہیں جن میں پتھر کے مکانات کی بنیادیں، مٹی کی دیواریں، چولہے اور چونا گچ کیے گئے کمرے شامل ہیں۔ مٹی کے برتن اور دھاتی اوزار بھی ملے ہیں، جو ہجری کیلنڈر کی تیسری صدی کے آخر میں اس علاقے میں انسانی آبادکاری کی تصدیق کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ مقام قدیم تجارتی اور حج راستوں پر اپنی اسٹریٹجک حیثیت رکھتا تھا، جو اس کی تاریخی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
سعودی ہیریٹیج اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مملکت کے ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے اور قومی آثارِ قدیمہ کے مقامات کی تحقیق اور دستاویز سازی کی کوششوں کا حصہ ہے، جو سعودی عرب کے ویژن 2030 کے ثقافتی اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
