یمن کے امن کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں، یو اے ای کا جنوبی عبوری کونسل کو کارروائیوں پر آمادہ کرنا افسوسناک ہے: سعودی عرب

0

ریاض — سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ یمن میں پائیدار امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے یمنی جنوبی عبوری کونسل پر دباؤ ڈال کر عسکری کارروائیوں پر آمادہ کرنا انتہائی افسوسناک اور خطرناک اقدام ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات سعودی عرب کی قومی سلامتی، جمہوریہ یمن کے امن اور پورے خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور یمنی حکومت کی حمایت کے لیے قائم عرب اتحاد کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

بیان میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے یا اس سے چھیڑ چھاڑ کو ریڈ لائن سمجھا جائے گا اور سعودی عرب ایسے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گا جو ان خطرات کے سدباب کے لیے ضروری ہو۔

سعودی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ مملکت یمن کے امن، استحکام، خود مختاری اور وحدت کی مکمل حمایت جاری رکھے گی اور یمنی صدارتی قیادت کونسل اور اس کی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔

بیان کے مطابق یمن کے جنوبی مسئلے کے تاریخی اور سماجی پہلو موجود ہیں، جن کا حل صرف جامع سیاسی عمل اور مذاکرات کی میز پر ممکن ہے۔ سعودی عرب نے کہا کہ ایسے مذاکرات میں جنوبی عبوری کونسل سمیت تمام یمنی فریقین کی شمولیت ناگزیر ہے۔

سعودی عرب نے مطالبہ کیا کہ متحدہ عرب امارات یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی یمنی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فوری طور پر بند کرے۔

بیان میں دانش مندی، اخوت اور حسنِ ہمسائیگی کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط اور مستحکم تعلقات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یمن نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا، جبکہ یو اے ای نے یمن سے متعلق سعودی بیان کو مایوس کن قرار دیا ہے، جس سے ریاض اور ابوظہبی کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.