حضرموت میں ہوم لینڈ شیلڈ فورسز کی پیش قدمی، یمن کی سیاسی کشیدگی برقرار
حضرموت، یمن – مشرقی یمن کے صوبے حضرموت میں ہوم لینڈ شیلڈ فورسز نے فوجی مراکز اور اہم تنصیبات پر کنٹرول کے لیے اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہے، جبکہ جنوبی عبوری کونسل (STC) کے سربراہ عیدروس الزبیدی کے اقدامات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
یمن کے نائب وزیرِ خارجہ مصطفیٰ احمد النعمان نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الزبیدی کی سب سے بڑی غلطی سعودی عرب سے دشمنی اختیار کرنا اور سرحدوں کے قریب جانا ہے، جس کی بھاری قیمت انہیں چکانی پڑے گی۔ النعمان نے زور دیا کہ جنوبی عبوری کونسل ایک ممنوعہ تنظیم بن چکی ہے اور اسے فوری طور پر ملیشیاؤں کے استعمال کو روکنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاری معرکہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا اور فورسز اپنے اہداف بہت جلد حاصل کر لیں گی۔
دوسری جانب یمن کی وزارتِ اطلاعات کے انڈر سیکریٹری فیاض النعمان نے وضاحت کی کہ "ہوم لینڈ شیلڈ” فورسز قریبی وقت میں اپنے اہداف مکمل کر لیں گی اور جنوبی عبوری کونسل پر زور دیا کہ وہ حضرموت کے دارالحکومت مکلا میں واقع الریان ہوائی اڈے سے فوری طور پر انخلا کرے تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔
ادھر یمن کے جنوبی صوبوں کی سیاسی جماعتوں اور دھڑوں نے جمعہ کی شام STC کے سربراہ کے یکطرفہ اقدامات کو سختی سے مسترد کیا۔ سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ الزبیدی نے خود کو جنوب کا نمائندہ اور ترجمان مقرر کر لیا، جبکہ دیگر جنوبی سیاسی شخصیات اور جماعتوں کو نظر انداز کیا گیا۔ ان جماعتوں نے صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی سے مطالبہ کیا کہ تمام جنوبی سیاسی دھڑوں اور شخصیات کو شامل کرتے ہوئے ایک جامع کانفرنس بلائی جائے تاکہ مذاکرات کے ذریعے جنوبی مسئلے کا منصفانہ اور ہمہ گیر حل تلاش کیا جا سکے۔