برطانیہ کے معروف نشریاتی ادارے BBC نے اخراجات میں کمی کے لیے آئندہ تین سال کے دوران دو ہزار سے زائد ملازمتیں ختم کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، جسے گزشتہ 15 برسوں میں سب سے بڑی ممکنہ چھانٹی قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خبر ITV News اور Press Association کی جانب سے سامنے آئی ہے، تاہم تاحال بی بی سی کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق یا ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ادارے کو مالی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث یہ اقدام زیر غور ہے۔ گزشتہ برس بی بی سی کے پبلک سروس اخراجات تقریباً 4 ارب پاؤنڈ تک پہنچ گئے تھے، جس کے بعد اخراجات میں کمی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔
ادھر ادارے کی قیادت میں بھی تبدیلی کی اطلاعات ہیں، جہاں Matt Brittin کو ممکنہ طور پر Tim Davie کی جگہ ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں۔ ٹم ڈیوی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل مختلف دباؤ اور تنازعات کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بی بی سی کو اس وقت نہ صرف مالی مسائل بلکہ ادارتی تنازعات کا بھی سامنا ہے، خصوصاً غزہ جنگ کی کوریج پر اٹھنے والے سوالات نے ادارے کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور مغربی ممالک کے درمیان اختلافات بھی میڈیا اداروں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
