نیویارک – وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد امریکہ کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مظاہرین واشنگٹن ڈی سی سے نیویارک تک سڑکوں پر نکل آئے اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے وینزویلا میں فوجی مداخلت کی شدید مذمت کی۔
امریکہ کے 75 سے زائد شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں، جہاں مظاہرین نے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے جنگ کی بجائے ملکی ترقی، تعلیم اور روزگار پر خرچ کیے جائیں۔
نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھائے جن پر درج تھا:
-
"وینزویلا سے ہاتھ ہٹا دو”
-
"نوکریوں اور تعلیم کو فنڈ دیں، نہ کہ جنگ اور پیشے”
اسی طرح کے مظاہرے واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے باہر بھی ہوئے، جہاں مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کے وینزویلا میں اقدامات کے خلاف یک زبان ہو کر نعرے لگائے اور بیرونی فوجی مداخلت کے بجائے ملکی اخراجات کی ترجیحات پر زور دیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وینزویلا کے خلاف جارحیت عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہے اور امریکی حکومت کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
