چین نے جوہری تخفیفِ اسلحہ مذاکرات میں شمولیت سے متعلق امریکی مطالبات کو غیر معقول قراردے دیا
چین نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں میں تخفیف سے متعلق مشاورت میں اس کی شمولیت کے بارے میں امریکہ کے مطالبات غیر معقول اور زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ بات امریکہ میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ تبصرے پر ردعمل دیتے ہوئے کہی۔
ترجمان کے مطابق چین نے متعلقہ رپورٹس کا نوٹس لیا ہے اور اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے سب سے بڑے ذخیرے کے مالک ممالک پر یہ خصوصی اور بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جوہری تخفیفِ اسلحہ کے عمل میں قیادت کریں، اپنے ذخائر میں مزید کمی کریں اور مکمل جوہری تخفیف کے ہدف کے حصول کے لیے سازگار حالات پیدا کریں۔
لیو پینگیو نے کہا کہ چین کی جوہری صلاحیت کسی بھی طور پر امریکہ کے جوہری ذخائر کے برابر نہیں ہے اور دونوں ممالک کی جوہری پالیسیاں اور تزویراتی سلامتی کے ماحول بھی یکسر مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال سے اجتناب کی پالیسی اور دفاعی نوعیت کی جوہری حکمت عملی پر سختی سے کاربند ہے۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ چین اپنی جوہری طاقت کو قومی سلامتی کے لیے درکار کم سے کم سطح تک محدود رکھتا ہے اور کسی بھی ملک کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق چین کی جوہری پالیسی اور قوت عالمی امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کرتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے مطالبہ کیا تھا کہ چین کو مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے میں روس اور امریکہ کے ساتھ شامل ہونا چاہیے۔