غزہ انتظام کے لیے فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے 15 ارکان پر اتفاق
قاہرہ – غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے 15 ارکان پر مشتمل فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے ناموں پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ کمیٹی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ سال پیش کردہ منصوبے کے تحت غزہ کی روزمرہ انتظامی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔
قاہرہ میں پریس کانفرنس کے دوران مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے اور جلد ہی ان کا اعلان کیا جائے گا، جس کے بعد منصوبے کی بقیہ شقوں پر عمل درآمد ممکن ہو سکے گا۔
ذرائع کے مطابق، اس کمیٹی میں فلسطینی نجی شعبے اور غیر سرکاری تنظیموں کی شخصیات شامل ہیں، جن کا انتخاب مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے سابق ایلچی نکولائی ملاڈینوف نے کیا۔ کمیٹی کی سربراہی علی شعث کریں گے، جو فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر اور صنعتی زون کی ترقی کے ذمہ دار رہے ہیں۔
اسرائیل اور حماس نے اکتوبر میں ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ باڈی، جس کی نگرانی بین الاقوامی "امن کونسل” کرے گی، عبوری مدت کے لیے غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔ اس ادارے میں حماس کی کوئی نمائندگی نہیں ہوگی۔
فہرست میں شامل دیگر ارکان میں غزہ چیمبر آف کامرس کے صدر عاید ابو رمضان اور فلسطینی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی "جوال” کے عمر شمالی بھی شامل ہیں۔ توقع ہے کہ کمیٹی کے ارکان قاہرہ میں ملاڈینوف سے ملاقات کریں گے۔
ٹرمپ کے منصوبے کا پہلا مرحلہ، جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی شامل تھی، کئی رکاوٹوں کا شکار رہا۔ جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حماس ہتھیار ڈالنے سے انکار کر چکی ہے۔ تاہم، منصوبے کے دوسرے مرحلے میں امن کونسل کے قیام اور امن فوج کی تعیناتی شامل ہوگی، جس پر ابھی حتمی اتفاق ہونا باقی ہے۔