یوکرین میں مغربی فورسز کی موجودگی ناقابلِ قبول، غیرملکی فوجی روس کا جائز ہدف ہوں گے: ماریا زخارووا

0

ماسکو – روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے واضح کیا ہے کہ یوکرین میں مغربی ممالک کی کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی روس کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور وہاں موجود کوئی بھی غیرملکی فوجی روس کا جائز عسکری ہدف تصور کیا جائے گا۔

ایک بیان میں ماریا زخارووا نے کہا کہ روس اپنے مؤقف سے بارہا آگاہ کر چکا ہے، اس کے باوجود بعض مغربی ممالک، خصوصاً برطانیہ، یوکرین میں غیرملکی فوج کی تعیناتی پر غور کر رہے ہیں، جو صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یوکرین میں برطانوی یا کسی بھی دوسرے مغربی ملک کی فوجی موجودگی کو کسی قسم کا استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا اور روس ایسی کسی پیش رفت کو براہِ راست سکیورٹی خطرہ سمجھے گا۔

روسی ترجمان نے مغربی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مغرب یہ دعوے کرنا بند کرے کہ روس اور چین گرین لینڈ کو دھمکا رہے ہیں یا چین، روس کی وجہ سے گرین لینڈ میں کشیدگی بڑھا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات حقیقت کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد عالمی سطح پر خوف و ہراس پیدا کرنا اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو ہوا دینا ہے۔

ماہرین کے مطابق ماریا زخارووا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین جنگ کے تناظر میں مغربی ممالک کے ممکنہ فوجی کردار پر بحث تیز ہو رہی ہے اور نیٹو ممالک کے اندر بھی اس حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ روس کی جانب سے اس نوعیت کے سخت بیانات خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.