پاکستان سمیت مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجدِ اقصیٰ / الحرم الشریف میں اسرائیلی افواج کی نگرانی میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسلسل دراندازی اور اس کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانے کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق ان آٹھ اسلامی ممالک نے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی آبادیاتی، تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں کر رہا ہے، جبکہ وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسجدِ اقصیٰ / الحرم الشریف کا مکمل 144 دونم پر مشتمل علاقہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اس کے انتظامی معاملات چلانے کا اختیار اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے تحت قائم “یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور محکمہ” کے پاس ہے۔
وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے جاری اشتعال انگیز اقدامات خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو بڑھا رہے ہیں اور یہ اقدامات امن کے لیے عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
بیان میں اسرائیل سے فوری طور پر ان تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز سرگرمیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا اور مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کے مکمل احترام پر زور دیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خود ارادیت اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
