تہران: ایران کے اعلیٰ حکام نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور نماز جنازہ کے سلسلے میں وسیع انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات ملک کے اہم شہروں تہران، قم اور مشہد میں منعقد کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ تدفین مشہد میں واقع روضۂ امام رضاؑ کے احاطے میں کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ کے مطابق دارالحکومت میں لاکھوں افراد کی شرکت کے پیش نظر غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف صوبوں اور شہروں کی جانب سے بھی تقریبات کی میزبانی کے لیے درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق نماز جنازہ اور عوامی تعزیتی اجتماعات کئی مراحل میں منعقد کیے جائیں گے، جن میں ملک بھر سے عوام کی بڑی تعداد کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے وفود اور مذہبی شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر خطوں سے بھی سوگواروں کی بڑی تعداد ایران پہنچ سکتی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عوامی شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تقریبات نہ صرف ایران کے داخلی سیاسی منظرنامے بلکہ خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی ان پیش رفتوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
