سینئر نیوز اینکر عشرت فاطمہ کی پی ٹی وی واپسی، 45 سالہ ریڈیو پاکستان وابستگی کا اختتام

0

اسلام آباد – پاکستان ٹیلی ویژن کے خبرنامے سے پہچان بنانے والی معروف سینئر نیوز اینکر اور براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ایک بار پھر پی ٹی وی جوائن کر لیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے ریڈیو پاکستان کے ساتھ اپنی 45 سالہ طویل وابستگی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس نے میڈیا حلقوں اور ان کے مداحوں کو جذباتی کر دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے معروف سینئر نیوز اینکر اور براڈکاسٹر عشرت فاطمہ کو دوبارہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) میں واپسی پر آمادہ کر لیا۔ عشرت فاطمہ نے وزیر اطلاعات کی درخواست قبول کرتے ہوئے بطور مینٹور اور استاد نیوز اینکر پی ٹی وی جوائن کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔

عشرت فاطمہ کا کہنا تھا کہ “جو کچھ ہم نے زندگی میں ٹھوکریں کھا کر سیکھا، میں چاہتی ہوں وہ تجربہ دوسروں کو سکھاؤں۔ اگر نئے لوگ آسانی سے سیکھ جائیں تو مجھے دلی خوشی ہو گی۔”

ذرائع کے مطابق عشرت فاطمہ کے ریڈیو پاکستان چھوڑنے کی خبر ملتے ہی وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ آج شام خود ان کی رہائش گاہ پہنچے اور ان سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیر اطلاعات نے عشرت فاطمہ کی 45 سالہ شاندار پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عشرت فاطمہ نیوز کاسٹنگ اور براڈکاسٹنگ کی دنیا میں ایک مضبوط شناخت اور ادارہ جاتی علامت ہیں۔ “آپ نے اپنے طویل کیریئر میں ملک کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں، پاکستان کا بچہ بچہ آپ کو جانتا ہے، آپ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہچان ہیں۔”

وفاقی وزیر نے عشرت فاطمہ سے بطور مینٹور پی ٹی وی آنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ “آپ کی واپسی سے ادارے میں حوصلہ اور اعتماد بڑھے گا، آپ کی موجودگی پی ٹی وی میں پروفیشنلزم اور نیوٹرلٹی کو مزید مضبوط کرے گی۔”

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عشرت فاطمہ نے ہمیشہ پیشہ ورانہ غیرجانبداری کے ساتھ کام کیا، ان کا کبھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا اور انہوں نے ایک پروفیشنل براڈکاسٹر کی حیثیت سے پوری زندگی دیانت داری سے خدمات سرانجام دیں۔

اس موقع پر عشرت فاطمہ نے وزیر اطلاعات کی جانب سے عزت افزائی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “حوصلہ افزائی اور محبت کا یہ اظہار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میں سکھانے میں بہت دلچسپی رکھتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ باصلاحیت افراد کی حوصلہ شکنی کے بجائے ان کی رہنمائی اور سرپرستی کی جائے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کوشش کریں گی کہ اپنے ادارے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے جو کچھ ممکن ہو، وہ ضرور کریں۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات نے عشرت فاطمہ کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے معروف سینئر نیوز اینکر اور براڈکاسٹر عشرت فاطمہ کو دوبارہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) میں واپسی پر آمادہ کر لیا۔ عشرت فاطمہ نے وزیر اطلاعات کی درخواست قبول کرتے ہوئے بطور مینٹور اور استاد نیوز اینکر پی ٹی وی جوائن کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔

عشرت فاطمہ کا کہنا تھا کہ “جو کچھ ہم نے زندگی میں ٹھوکریں کھا کر سیکھا، میں چاہتی ہوں وہ تجربہ دوسروں کو سکھاؤں۔ اگر نئے لوگ آسانی سے سیکھ جائیں تو مجھے دلی خوشی ہو گی۔”

ذرائع کے مطابق عشرت فاطمہ کے ریڈیو پاکستان چھوڑنے کی خبر ملتے ہی وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ آج شام خود ان کی رہائش گاہ پہنچے اور ان سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیر اطلاعات نے عشرت فاطمہ کی 45 سالہ شاندار پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عشرت فاطمہ نیوز کاسٹنگ اور براڈکاسٹنگ کی دنیا میں ایک مضبوط شناخت اور ادارہ جاتی علامت ہیں۔ “آپ نے اپنے طویل کیریئر میں ملک کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں، پاکستان کا بچہ بچہ آپ کو جانتا ہے، آپ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہچان ہیں۔”

وفاقی وزیر نے عشرت فاطمہ سے بطور مینٹور پی ٹی وی آنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ “آپ کی واپسی سے ادارے میں حوصلہ اور اعتماد بڑھے گا، آپ کی موجودگی پی ٹی وی میں پروفیشنلزم اور نیوٹرلٹی کو مزید مضبوط کرے گی۔”

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عشرت فاطمہ نے ہمیشہ پیشہ ورانہ غیرجانبداری کے ساتھ کام کیا، ان کا کبھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا اور انہوں نے ایک پروفیشنل براڈکاسٹر کی حیثیت سے پوری زندگی دیانت داری سے خدمات سرانجام دیں۔

اس موقع پر عشرت فاطمہ نے وزیر اطلاعات کی جانب سے عزت افزائی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “حوصلہ افزائی اور محبت کا یہ اظہار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میں سکھانے میں بہت دلچسپی رکھتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ باصلاحیت افراد کی حوصلہ شکنی کے بجائے ان کی رہنمائی اور سرپرستی کی جائے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کوشش کریں گی کہ اپنے ادارے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے جو کچھ ممکن ہو، وہ ضرور کریں۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات نے عشرت فاطمہ کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔

ذرائع کے مطابق عشرت فاطمہ کے ریڈیو پاکستان چھوڑنے کی خبر ملتے ہی وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ آج شام خود ان کی رہائش گاہ پہنچے اور ان سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیر اطلاعات نے عشرت فاطمہ کی 45 سالہ شاندار پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عشرت فاطمہ نیوز کاسٹنگ اور براڈکاسٹنگ کی دنیا میں ایک مضبوط شناخت اور ادارہ جاتی علامت ہیں۔ “آپ نے اپنے طویل کیریئر میں ملک کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں، پاکستان کا بچہ بچہ آپ کو جانتا ہے، آپ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہچان ہیں۔”

وفاقی وزیر نے عشرت فاطمہ سے بطور مینٹور پی ٹی وی آنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ “آپ کی واپسی سے ادارے میں حوصلہ اور اعتماد بڑھے گا، آپ کی موجودگی پی ٹی وی میں پروفیشنلزم اور نیوٹرلٹی کو مزید مضبوط کرے گی۔”

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عشرت فاطمہ نے ہمیشہ پیشہ ورانہ غیرجانبداری کے ساتھ کام کیا، ان کا کبھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا اور انہوں نے ایک پروفیشنل براڈکاسٹر کی حیثیت سے پوری زندگی دیانت داری سے خدمات سرانجام دیں۔

اس موقع پر عشرت فاطمہ نے وزیر اطلاعات کی جانب سے عزت افزائی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “حوصلہ افزائی اور محبت کا یہ اظہار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میں سکھانے میں بہت دلچسپی رکھتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ باصلاحیت افراد کی حوصلہ شکنی کے بجائے ان کی رہنمائی اور سرپرستی کی جائے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کوشش کریں گی کہ اپنے ادارے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے جو کچھ ممکن ہو، وہ ضرور کریں۔

قبل ازیں عشرت فاطمہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ریڈیو پاکستان سے اپنے آخری خبرنامے کی ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ سامعین سے جذباتی انداز میں رخصت لیتے ہوئے اپنی 45 سالہ رفاقت کو الوداع کہتی نظر آئیں۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان اور سامعین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس طویل سفر میں ان کا ساتھ دیا۔

بعد ازاں ایک 13 منٹ طویل ویڈیو پیغام میں عشرت فاطمہ نے اپنے فیصلے کے پس منظر پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے انتہائی مشکل تھا اور وہ طویل عرصے سے ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے سے قبل انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جو بھی ہو، اس میں بہتری اور آسانی ہو۔

عشرت فاطمہ کے مطابق ان کا باقاعدہ نیوز ریڈنگ کا سفر 1984 میں شروع ہوا، جبکہ وہ 1983 سے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خبر پڑھنا ان کے لیے صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ جذبہ، عشق اور جنون رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ان کی آواز، تلفظ، صحت اور کام کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر برقرار ہے اور وہ ہمیشہ وقت کی پابند اور اپنے کام سے مخلص رہی ہیں۔

تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ اس کے باوجود انہیں کام کرنے کے وہ مواقع فراہم نہیں کیے گئے جن کی وہ حقدار تھیں۔ ان کے مطابق انہیں بارہا سینئر اور لیجنڈ قرار دیا گیا، مگر عملی طور پر ان کے تجربے اور خدمات کو مناسب انداز میں بروئے کار نہیں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بار بار یہ احساس دلایا جانا کہ اب ان کی ضرورت نہیں رہی، ان کے لیے نہایت تکلیف دہ تھا۔

عشرت فاطمہ نے بتایا کہ انہوں نے طویل عرصے تک حالات بہتر ہونے کا انتظار کیا، مگر بالآخر ریڈیو پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ تاہم انہوں نے اپنے مداحوں کو یقین دلایا کہ وہ مکمل طور پر منظر سے غائب نہیں ہوں گی اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے چاہنے والوں سے رابطے میں رہیں گی، جہاں وہ اپنی یادیں اور تجربات شیئر کریں گی۔

واضح رہے کہ عشرت فاطمہ کو ان کی شاندار صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پاکستان اور تمغۂ امتیاز جیسے اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.