Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

سلطان آف جوہر کپ کے فائنل میں پاکستان کو شکست، ملائیشیا چیمپئن بن گیا

اکتوبر 24, 2026

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان ٹیم کا اعلان

اکتوبر 24, 2026

بلائنڈ کرکٹ ایشیا کپ: پاکستان ٹیم کا اعلان، نثار علی کپتان مقرر

اکتوبر 24, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
اتوار, اکتوبر 25
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»دنیا»شامی صدر کا کرد فورسز کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ’سب کی فتح‘ کا اعلان، دمشق کا شمال مشرق پر کنٹرول مضبوط
دنیا

شامی صدر کا کرد فورسز کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ’سب کی فتح‘ کا اعلان، دمشق کا شمال مشرق پر کنٹرول مضبوط

EditorBy Editorجنوری 19, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Syrian president declares 'victory for all' after ceasefire with Kurdish forces, Damascus consolidates control over northeast
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

دمشق / رقہ – شام میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری اقتدار اور علاقائی کنٹرول کی کشمکش ایک نئے موڑ میں داخل ہو گئی ہے، جہاں شامی حکومت نے کرد زیر قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ملک کے تقریباً تمام اہم علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اتوار کے روز شامی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ SDF کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد شمال مشرقی شام میں جاری فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں میں حکومتی افواج نے کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں کی جانب بڑی پیش قدمی کی تھی۔

حالیہ دنوں میں حکومتی فورسز اور SDF کے درمیان کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ مشرقی حلب کے حساس محاذوں پر جھڑپوں کے بعد شامی فوج نے مشرق کی سمت بھرپور دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں کرد فورسز کو متعدد علاقوں سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد شامی ڈیموکریٹک فورسز کے سربراہ مظلوم عبدی نے ایک ویڈیو پیغام میں معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم نے خونریزی روکنے کی خاطر اس معاہدے کو قبول کر لیا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے تحت SDF کو رقہ اور دیر الزور صوبوں سے انخلا کرنا ہوگا۔

عبدی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ یہ فیصلہ کن حالات میں کیوں کیا گیا۔

ادھر شامی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ معاہدے کے بعد تمام محاذوں پر لڑائی روکنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں اور فوج کو پیش قدمی معطل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت طے پایا ہے جب دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی نئی قیادت ملک پر مکمل ریاستی اختیار بحال کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ مارچ میں دمشق اور SDF کے درمیان انضمام کا ایک معاہدہ پہلے بھی طے پایا تھا، تاہم دونوں فریق ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے، جس کے باعث وہ معاہدہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

حالیہ جھڑپوں کے بعد شامی حکومت نے خاص طور پر دیر الزور اور رقہ جیسے اسٹریٹجک صوبوں پر کنٹرول حاصل کرنے پر زور دیا، جہاں تیل و گیس کے اہم ذخائر، دریائے فرات پر واقع ڈیم اور سرحدی گزرگاہیں موجود ہیں۔

اتوار کے روز شامی وزارت دفاع کے بڑے فوجی قافلے رقہ شہر میں داخل ہوئے، جہاں مقامی آبادی کی جانب سے سڑکوں پر شامی پرچم لہرائے گئے اور آتش بازی کے ذریعے جشن منایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس موقع پر کرد فورسز شہر سے پیچھے ہٹ چکی تھیں۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق صدر احمد الشارع نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے۔ اگرچہ مظلوم عبدی دستاویز پر دستخط کنندگان میں شامل تھے، تاہم وہ تقریب میں موجود نہیں تھے۔ شامی صدر کے مطابق خراب موسم کے باعث عبدی دمشق نہ پہنچ سکے اور وہ پیر کے روز دارالحکومت کا دورہ کریں گے۔

معاہدے پر دستخط کے بعد صدر احمد الشارع نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسے ’’تمام شامیوں کی فتح‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ شام کے لیے تاریخی ہے کیونکہ ملک اب تقسیم کے دور سے نکل کر اتحاد، استحکام اور ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے یہ معاہدہ ایک ایسے نئے شام کی بنیاد رکھے گا جہاں تمام قومیتیں اور طبقے ریاستی ڈھانچے کا حصہ ہوں گے۔

یہ پیش رفت عالمی سطح پر بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے کیونکہ شامی حکومت اور SDF دونوں امریکہ کے اہم اتحادی رہے ہیں۔ امریکی ایلچی ٹام بیرک نے اتوار کے روز صدر احمد الشارع سے ملاقات کی، جب کہ مظلوم عبدی مبینہ طور پر فون کے ذریعے اس ملاقات میں شریک ہوئے۔

امریکی ایلچی نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی ایک متحد شام کی جانب نئے مذاکرات اور تعاون کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ لمحہ اس بات کی علامت ہے کہ سابق مخالفین اب تقسیم کے بجائے شراکت داری کو ترجیح دے رہے ہیں۔

معاہدے کے مطابق شامی ڈیموکریٹک فورسز کو تحلیل کر کے اس کے جنگجوؤں کو شامی فوج اور سیکیورٹی اداروں میں شامل کیا جائے گا، جبکہ کئی اعلیٰ فوجی اور سول حکام کو ریاستی اداروں میں اہم عہدے دیے جائیں گے۔

اس کے تحت SDF کو رقہ اور دیر الزور جیسے عرب اکثریتی صوبے، سرحدی راستے اور تیل و گیس کے میدان مکمل طور پر دمشق کے حوالے کرنا ہوں گے۔ صوبہ حسکہ، جو کرد آبادی کا مرکز سمجھا جاتا ہے، وہاں صرف سول انتظامیہ حکومت کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔

اسی طرح اسلامک اسٹیٹ کے ہزاروں قیدیوں اور ان کے اہل خانہ پر مشتمل جیلوں اور کیمپوں کا انتظام بھی اب شامی حکومت کے سپرد کیا جائے گا۔

تاہم معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی واضح ٹائم لائن جاری نہیں کی گئی۔ صدر الشارع کے مطابق یہ عمل مرحلہ وار ہوگا اور اس کا آغاز مکمل جنگ بندی سے کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ شام میں طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے، جہاں برسوں بعد مرکزی حکومت نے شمال مشرقی علاقوں پر عملی کنٹرول حاصل کرنے میں بڑی پیش رفت کی ہے، اگرچہ آنے والے دنوں میں اس معاہدے پر حقیقی عمل درآمد ہی اس کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرے گا۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    برطانیہ میں سمر ٹائم ختم، آج رات گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے ہوں گی

    اکتوبر 24, 2026

    فرانس میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے، 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات

    اکتوبر 24, 2026

    کشمیری حقوق کے لیے متحد ہوں، پاکستان عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھا رہا ہے: فاروق عبداللہ

    اکتوبر 24, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026

    رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں پاکستان شاہینز نے بھارت کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    نومبر 16, 2025
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.