بلغاریہ میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، صدر رومین رادیو مستعفی

0

صوفیہ – بلغاریہ میں جاری سیاسی عدم استحکام کے باعث صدر رومین رادیو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جو ملک کی تاریخ میں کسی بھی صدر کی جانب سے قبل از وقت استعفے کا پہلا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق صدر رومین رادیو نے یہ فیصلہ حکومت سازی میں ناکامی اور شدید عوامی دباؤ کے بعد کیا۔ صدر کی جانب سے اہم سیاسی جماعتوں کے ساتھ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کیے گئے مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے نتیجے میں ملک مزید سیاسی تعطل کا شکار ہو گیا۔

حکومت سازی ناکام، سیاسی مذاکرات بے نتیجہ

ذرائع کے مطابق صدر رومین رادیو نے پارلیمان میں موجود بڑی جماعتوں کو حکومت بنانے کا موقع دیا، تاہم سیاسی اختلافات، باہمی عدم اعتماد اور اتحاد کے فقدان کے باعث کوئی بھی جماعت قابلِ عمل حکومت تشکیل دینے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

اسی دوران گزشتہ ماہ ملک بھر میں بدعنوانی، مہنگائی اور معاشی پالیسیوں کے خلاف عوامی مظاہروں نے شدت اختیار کر لی تھی، جن میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔

اتحادی جماعت کا ساتھ چھوڑنا فیصلہ کن ثابت ہوا

خبر ایجنسی کے مطابق حکومت کو اس وقت شدید دھچکا پہنچا جب اس کی اہم اتحادی جماعت نے عوامی دباؤ اور احتجاجی تحریک کے بعد حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی، جس کے باعث پارلیمان میں حکومت کی عددی برتری ختم ہو گئی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہی پیش رفت صدر کے لیے فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوئی، کیونکہ اس کے بعد ریاستی نظام کو آگے بڑھانا عملی طور پر ناممکن ہو گیا تھا۔

وزیراعظم پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کئی ہفتوں تک جاری حکومت مخالف احتجاج کے نتیجے میں وزیراعظم روزن زیلیازکوو بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکے تھے۔

وزیراعظم کے خلاف پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جا چکی تھی، جس پر ووٹنگ ہونا باقی تھی، تاہم روزن زیلیازکوو نے ووٹنگ سے قبل ہی استعفیٰ دے کر سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔

احتجاج کی اصل وجوہات کیا تھیں؟

بلغاریہ میں عوامی احتجاج کی بنیادی وجوہات میں شامل تھیں:

  • حکومتی معاشی پالیسیوں پر شدید عوامی عدم اطمینان

  • ٹیکسوں میں اضافے کے فیصلے

  • بڑھتی مہنگائی اور معاشی دباؤ

  • اعلیٰ حکومتی شخصیات پر کرپشن کے الزامات

مظاہرین کا مؤقف تھا کہ حکومت ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا کر بدعنوانی کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ عام شہری شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

وزیراعظم کا مؤقف

استعفے سے قبل خطاب میں وزیراعظم روزن زیلیازکوو نے کہا تھا:

“مجھے یقین تھا کہ حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی، لیکن کسی بھی حکومت کا وجود عوامی اعتماد سے مشروط ہوتا ہے۔
جب عوام سڑکوں پر نکل آئیں تو ان کی آواز سننا ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔”

آئندہ صورتحال

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر اور وزیراعظم دونوں کے استعفوں کے بعد بلغاریہ ایک آئینی اور سیاسی عبوری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ممکنہ طور پر:

  • عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی

  • قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان متوقع ہے

  • یورپی یونین بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے

بلغاریہ میں جاری یہ سیاسی بحران یورپ کے ایک اور ملک میں جمہوری نظام کو درپیش سنگین چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.