بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں، ادارے کو اپنا کردار ادا کرنے دینا چاہیے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ان کی جانب سے پیش کیا گیا “بورڈ آف پیس” اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ ایک الگ سفارتی پلیٹ فارم ہے، جبکہ اقوام متحدہ کو اپنا کام جاری رکھنے دینا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس میں اپنی صدارت کا ایک سال مکمل ہونے پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی صلاحیتوں کے حامی ہیں، تاہم ان کے بقول یہ ادارہ اب تک اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں اور قیادت کی سطح پر ہم آہنگی موجود ہے۔ انہوں نے یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعاون کو عالمی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا وینزویلا سے اب تک 50 ملین بیرل تیل حاصل کر چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ پیرس میں ہونے والے جی سیون (G7) اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے، تاہم مشرق وسطیٰ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کردوں کے تحفظ کی کوششیں جاری ہیں۔
جنوبی ایشیا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران آٹھ طیارے گرائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے کہا کہ آپ نے کروڑوں جانیں بچائیں۔
ٹرمپ کے مطابق اگر پاک بھارت جنگ نہ رکوائی جاتی تو لاکھوں افراد ہلاک ہو سکتے تھے، جبکہ ان کے بقول یہ تعداد 10 سے 20 ملین تک جا سکتی تھی۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
روس یوکرین جنگ سے متعلق صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس تنازع کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح قرار دیا۔