بنگلہ دیش میں انتخابی تصادم: جماعتِ اسلامی کے سینیئر رہنما مولانا رضا الکریم جاں بحق

0

شیرپور- بنگلہ دیش کے ضلع شیرپور میں انتخابی سرگرمی کے دوران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے کارکنان کے درمیان تصادم کے نتیجے میں جماعتِ اسلامی کے سینیئر رہنما مولانا رضا الکریم شدید زخمی ہونے کے بعد انتقال کر گئے، جس کے بعد ملک میں انتخابات سے قبل سیاسی تشدد پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ضلع شیرپور کے علاقے ’جھینائی گاتی‘ میں پیش آیا، جہاں مقامی انتظامیہ کی جانب سے شیرپور-3 کے حلقے سے امیدواروں کے انتخابی منشور پڑھنے کی تقریب جاری تھی۔ نشستوں کے معاملے پر اختلافات تلخ کلامی اور پھر پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہوگئے۔

مولانا رضا الکریم جماعتِ اسلامی کی ’سری بردی اپازلا شاخ‘ کے سیکرٹری تھے اور فتح پور فاضل مدرسہ میں عربی کے لیکچرار بھی تھے۔ پولیس کے مطابق انہیں شدید زخمی حالت میں میمن سنگھ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا، لیکن راستے میں وہ دم توڑ گئے۔ ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی ہے۔

واقعے کے دوران سینکڑوں کرسیاں اور کئی موٹر سائیکلیں توڑ دی گئیں، جبکہ دونوں جماعتوں کے کم از کم 30 کارکن زخمی ہوئے۔ جماعتِ اسلامی کے شیرپور-3 سے امیدوار نورالزمان (بادل) نے الزام عائد کیا کہ حملہ بی این پی کے کارکنوں نے کیا، جس میں جماعتِ اسلامی کے 50 سے زائد کارکن زخمی ہوئے، جبکہ 3 کی حالت تشویش ناک ہے۔

جماعتِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پروار نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور تشدد کی شدید مذمت کی۔ اے بی پارٹی کے رہنماؤں نے بھی واقعے کو منظم سیاسی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جماعتِ اسلامی کی طلبہ تنظیم، اسلامی چھاترا شبِر نے ڈھاکا یونیورسٹی میں رات گئے احتجاج کرتے ہوئے مولانا رضا الکریم کے قتل پر انصاف کا مطالبہ کیا۔

یہ واقعہ بنگلہ دیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی اور انتخابی تشدد کے بڑھتے رجحان کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.