اقوامِ متحدہ، یورپ اور دنیا کے متعدد ممالک اسرائیل کے ویسٹ بینک اقدام کی مذمت
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمین کو ریاستی ملکیت قرار دینے کے اپنے تازہ اقدام کو واپس لے۔ گوتریس نے اس اقدام کو "غیر قانونی” اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والا قرار دیا۔
اسرائیلی حکومت نے اتوار کو ایک پالیسی کی منظوری دی تھی جس کے تحت مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں زمین کو ریاستی ملکیت کے طور پر رجسٹر کیا جا سکے گا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام زمین کے حقوق سے متعلق قانونی تنازعات کو شفاف انداز میں حل کرنے کے لیے کیا گیا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
پاکستان نے بھی اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل و جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس اشتعال انگیز فیصلے کو مسترد کرے اور اسرائیل کو قانون کا پابند بنائے۔
یورپی یونین نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے۔ یورپی یونین کے ترجمان اینور ایل اینونی نے کہا کہ الحاق بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے اور یہ اقدام خطے میں کشیدگی میں اضافہ کرے گا۔
عرب دنیا میں بھی اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔ سعودی عرب، مصر، قطر اور اردن سمیت کئی ممالک نے اس فیصلے کو امن کوششوں کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اردن کے فرمانروا کنگ عبداللہ دوم نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ پالیسی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مستحکم کرنے اور آبادکاروں کے لیے زمین کی رجسٹریشن میں آسانی پیدا کرنے کے لیے پیش کی گئی تھی، جس پر فلسطینی قیادت اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔