ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا نیا سلسلہ، 8 جامعات کے طلبہ سڑکوں پر نکل آئے
ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جہاں مختلف جامعات کے طلبہ مسلسل دوسرے روز بھی سڑکوں پر نکل آئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کم از کم آٹھ یونیورسٹیوں میں طلبہ نے پیر کے روز حکومت کے خلاف مظاہرے کیے اور سیاسی نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے ایرانی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سخت نعرے لگائے جبکہ کئی مقامات پر انقلابِ ایران سے قبل استعمال ہونے والے شیر و سورج کے نشان والے پرچم بھی لہرائے گئے، جو موجودہ نظام کے خلاف علامتی احتجاج سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، تاہم گرفتاریوں اور زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے سرکاری سطح پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ جنوری میں بھی ایران کے مختلف شہروں میں ملک گیر احتجاج دیکھنے میں آیا تھا جس دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی رپورٹس کے بعد ایرانی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف تشدد نہ روکا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ طلبہ مظاہرے ایران میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، سیاسی پابندیوں اور سماجی آزادیوں کے مطالبات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ حکام کی جانب سے اب تک کسی بڑے پالیسی ردِعمل کا اعلان سامنے نہیں آیا۔