مسجد نمرہ میں خطبۂ حج: امام عبدالرحمٰن الحذیفی کی امتِ مسلمہ کو تقویٰ، صبر اور اتحاد کی تلقین

مسجد نمرہ میں خطبۂ حج دیتے ہوئے شیخ عبدالرحمٰن الحذیفی نے امتِ مسلمہ کو تقویٰ، توحید، صبر، سچائی اور اتحاد کا درس دیا۔

خطبے کے آغاز میں انہوں نے کہا: “اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو، اور اپنے عہد کی پاسداری کرو۔”

امام مسجد نبوی ﷺ نے کہا کہ تقویٰ اہلِ ایمان کی پہچان ہے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ توحید پر عمل ہی کامیاب مومنوں کی نشانی ہے۔

خطبۂ حج میں انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں اور مسلمانوں کو ہر آزمائش اور مصیبت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔

شیخ عبدالرحمٰن الحذیفی نے مسلمانوں کو سچ بولنے، بدعت اور غیبت سے بچنے اور ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنے کی تلقین بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ حج کے دوران جھگڑے، اختلافات اور ایسے اعمال سے اجتناب کیا جائے جو امت کے اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔

انہوں نے حجاج کرام کو نصیحت کی کہ وہ ہر لمحہ مغفرت طلب کریں، اللہ کے ذکر اور عبادت میں مشغول رہیں اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔

خطبے میں انہوں نے کہا: “جن قوموں نے ظلم اور ناشکری اختیار کی، ان سے نعمتیں چھین لی گئیں۔”

امام مسجد نبوی ﷺ نے مزید کہا کہ اللہ اور بندے کا تعلق ہی نجات کا ذریعہ ہے، اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔

دورانِ خطبہ انہوں نے عالمِ اسلام، مسلمانوں کے اتحاد، ہدایت اور مغفرت کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کے حالات بہتر فرمائے، گناہوں کو معاف کرے اور مسلمانوں کو ہدایت و استقامت عطا فرمائے۔

لاکھوں حجاج کرام نے میدان عرفات میں خطبۂ حج سنا، جہاں عالمِ اسلام کے لیے امن، رواداری اور باہمی احترام کا پیغام بھی دیا گیا۔خطبے کے اختتام پر مسجد نمرہ میں نمازِ ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی گئیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے